اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 116
الذكر المحفوظ 116 یہ بات بھی یادر ہے کہ زمانہ کے فساد کے وقت جب کوئی مصلح آتا ہے اس کے ظہور کے وقت پر آسمان سے ایک انتشار نورانیت ہوتا ہے۔یعنی اس کے ساتھ زمین پر ایک نور بھی اترتا ہے اور مستعد دلوں پر نازل ہوتا ہے تب دنیا خود بخو د بشرط استعداد نیکی اور سعادت کے طریقوں کی طرف رغبت کرتی ہے اور ہر یک دل تحقیق اور تدقیق کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور نامعلوم اسباب سے طلب حق کے لئے ہر یک طلب حق کے لئے ہر یک طبیعت مستعدہ میں ایک حرکت پیدا ہو جاتی ہے غرض ایک ایسی ہوا چلتی ہے جو مستعد دلوں کو آخرت کی طرف ہلا دیتی ہے اور سوئی ہوئی قوتوں کو جگا دیتی ہے اور زمانہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ایک انقلاب عظیم کی طرف حرکت کر رہا ہے سو یہ علامتیں اس بات پر شاہد ہوتی ہیں کہ وہ مصلح دنیا میں پیدا ہوگیا پھر جس قدر آنے والا مصلح عظیم الشان ہو یہ غیبی تحریکات اسی قوت سے مستعد دلوں میں اپنا کام کرتی ہیں۔ہر یک سعید الفطرت جاگ اٹھتا ہے اور نہیں جانتا ہے کہ اس کو کس نے جگایا۔ہر یک صحیح الجبلت اپنے اندر ایک تبدیلی پاتا ہے اور انہیں معلوم کر سکتا کہ یہ تبدیلی کیونکر پیدا ہوئی۔فرض ایک جنبش سی دلوں میں شروع ہو جاتی ہے اور نادان خیال کرتے ہیں کہ یہ جنبش خود بخود پیدا ہوگئی لیکن در پردہ ایک رسول یا مجدد کے ساتھ یہ انوار نازل ہوتے ہیں چنانچہ قرآن کریم اور احادیث کی رو سے یہ امر نہایت انکشاف کے ساتھ ثابت ہے۔“ دوسری جگہ فرماتے ہیں: شہادت القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 312,313) سو ملائکہ اور روح القدس کی تنزیل یعنی آسمان سے اتر نا اُسی وقت ہوتا ہے جب ایک عظیم الشان آدمی خلعت خلافت پہن کر اور کلام الہی سے شرف پر کر زمین پر نزول فرماتا ہے روح القدس خاص طور اس خلیفہ کو ملتی ہے اور جو اس کے ساتھ ملائکہ ہیں وہ تمام دنیا کے مستعد دلوں پر نازل کئے جاتے ہیں۔تب دنیا میں جہاں جہاں جو ہر قابل پائے جاتے ہیں سب پر اُس نور کا پر تو پڑتا ہے اور تمام عالم میں ایک نورانیت پھیل جاتی ہے اور فرشتوں کی پاک تاثیر سے خود بخود دلوں میں نیک خیال پیدا ہونے لگتے ہیں۔“ فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3 حاشیہ صفحہ 12 ) اسی طرح ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ قرآن کریم کا دعوی ہے کہ اس کی تعلیم انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔چنانچہ جو کچھ قرآن کریم میں بیان ہے ہر سعید فطرت روح اسے تسلیم کرے گی۔اور جو جتنا سعید فطرت ہوگا