اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page xii
الذكر المحفوظ xii میں طاغوتی طاقتیں اس کوشش میں ہیں کہ بنی نوع انسان مذہب سے ہی برگشتہ ہو جائے۔اس لیے یا تو لوگوں کو اُن مذاہب کی طرف بلایا جائے جواب اپنے اصل کو کھو چکے ہیں یا پھر اسلام سے بھی دُور کیا جائے۔چنانچہ اس کوشش میں جہاں اسلامی تعلیمات کو بگاڑ کر پیش کیا جاتا ہے وہیں یہ کوشش بھی کی جاتی ہے کہ سادہ لوح لوگ یہ جھوٹ بھی تسلیم کرلیں کہ دوسرے مذاہب کی طرح اسلام میں بھی اصل الہی پیغام کے ساتھ لوگوں کی گھڑی ہوئی کہانیاں خلط ملط ہو چکی ہیں اور دوسرے مذاہب کی طرح اسلام بھی اپنے اصل کو کھو چکا ہے۔جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس یہی ہے جو Bosworth Smith بیان کرتے ہیں کہ (اسلام کے ) یہاں حقائق ہیں نہ کہ خیالات اور قیاسات اور ظنون اور طلسماتی کہانیاں۔ہم بآسانی معلوم کر سکتے ہیں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔“ اعتراضات کے جواب میں عام طور پر اعتراض کی نوعیت کے مطابق اور اُٹھائے جانے والے نکات کے جواب دیے جاتے ہیں اور بلاضرورت تفصیل بیان نہیں کی جاتی۔لیکن زیر نظر تصنیف میں اس پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے کہ چونکہ کتاب 'WHY I AM NOT A MUSLIM‘ کا مقصد شکوک پیدا کرنا ہے نہ کہ تنقیدی تحقیق پیش کرنا اس لیے اعتراضات کے جواب میں قاری کے ذہن میں پیدا ہونے والے اوہام کے ازالہ کی کوشش کی جائے چنانچہ مد نظر یہ رہا ہے کہ ابن وراق کے اعتراضات کا جواب اسی صورت میں مکمل ہوگا جبکہ اس کے پیدا کیے گئے شکوک کا قلع قمع کیا جائے اور حقائق اور دلائل اس طرح عام فہم انداز میں پیش کیے جائیں کہ ان کی روشنی میں قاری کے دل میں یہ بات راسخ ہو کہ قرآن کریم کامل طور پر ایک محفوظ کتاب ہے۔اس وجہ سے مطالعہ کے دوران شائد یہ احساس ہو کہ جوابات عام نہج سے ہٹ کر کچھ زیادہ تفصیلی ہیں۔اگر صرف اعتراضات کے جواب دینا ہی مدنظر رکھا جائے تو کتاب کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔مثلاً اگر کسی اعتراض کی بنیا د جھوٹ پر ہے تو اگر اعتراض کا غلط اور جھوٹ پر مبنی ہونا ہی ثابت کر دیا جائے تو کافی ہے جواب کی ضرورت نہیں اسی طرح جن اعتراضات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ان کو دعوی بلا دلیل قرار دے کر چھوڑ دینا بھی عین درست ہوگا۔لیکن اگر معترض کی کتاب کے مقصد کو ظاہر کرنا اور اس مقصد کے حصول کی کوشش کو ناکام بنانا اس کاوش کا مقصد سمجھا جائے تو پھر ہر اُس پہلو کو سامنے رکھنا ضروری ہوگا، جو ایک عام قاری کے دل میں شک پیدا کر سکتا ہے اور پھر اس شک کا عام فہم انداز میں ازالہ کرنے کے لیے جس قدر بھی تفصیل بیان کرنی مناسب ہو، بیان کی جائے گی۔پس اس کتاب میں یہ طریقہ اپنایا گیا ہے تاکہ موجودہ دور میں لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرنے کی کوشش کو نا کام بنایا جائے اور اس غرض کے حصول کے لیے تفصیل کے بیان سے پہلو تہی نہیں کی گئی۔لیکن یہ خیال رکھنے کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ شک وشبہ کے ازالہ کی کوشش میں جواب کو اتنا بھی پھیلا نہ دیا جائے کہ قاری کو بذات خود جواب سمجھنے میں ہی مشکل ہو۔ایک پہلو تکرار کا بھی ہے۔کتاب میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے کہ ہر اعتراض کے جواب میں مضمون جامع ہو اور قاری کو ایک بات سمجھنے کے لیے بار بار گزشتہ صفحات کی طرف رجوع نہ کرنا پڑے۔نیز ابن