اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 97
عہد خلافت راشدہ میں جمع و تدوین قرآن 97 تبھی اس کو چُنا گیا۔کیا ان تمام امور سے صحیفہ کی اہمیت کا اور اس کی افادیت کا اندازہ نہیں ہوتا ؟ یہ کہنا کہ لوگوں نے اس کا عام استعمال نہ کیا اس لیے معلوم ہوا کہ یہ غیر اہم تھا انتہائی بچگانہ بات ہے۔ہاں محافظت قرآن کریم کے سلسلہ میں شکوک پیدا کرنے کے لیے جن نسخوں کو اتنی اہمیت دیتے ہو وہ نسخے تو واقعی غیر اہم تھے اور وہی ایک نسخہ اہم تھا جس کے استناد پر تمام امت اور مخالف و موافق متفق تھے۔صرف اس لیے کہ اس نسخہ کو عوام نے کثرت سے استعمال نہ کیا پس ثابت ہوا کے یہ اہم نہیں تھا یہ تو ایک غیر معقول اور غیر مناسب سوچ ہے۔اُس دور میں قرآن کریم کی تحریرات بہت عام تھیں اور لوگوں کو کثرت سے قرآن کریم حفظ تھا اس لیے اس مخصوص نسخہ کی ضرورت نہ پڑی۔جب ضرورت پڑی تو پھر صرف اسی نسخہ کو استعمال کیا گیا اور کوئی دوسرا نسخہ استعمال نہیں کیا گیا۔اس کی نقول کروائی گئیں اور سب عالم اسلام میں پھیلائی گئیں اور ان کو استعمال کیا گیا۔ہر چیز کی اہمیت کا اندازہ صرف اس کے کثرتِ استعمال سے تو نہیں لگایا جاتا۔کیا اگر اصل سنبھال کے اور محفوظ رکھی گئی ہو اور نقول استعمال کی جاتی ہوں تو ایسا نسخہ غیر اہم ہو جاتا ہے؟ کسی تعلیم کی اصل اہمیت کا اندازہ تو اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ کس قدر عام ہے۔اس کی اشاعت کس قدر ہے۔کوئی قوم اسے کس قدر اہمیت دیتی ہے۔نہ کہ اسی وقت کوئی چیز اہم ثابت ہوتی ہے کہ اس کے اصل نسخہ کو ہر شخص کی پہنچ میں کر دیا جائے۔اہم مسودات تمام کے تمام کثرت سے استعمال کیے جاتے ہیں مگر نقول کی صورت میں۔ایسا تو نہیں ہوتا کہ ہر شخص اصل مسودہ لیے پھرتا ہے۔اس اعتراض کا سیدھا سیدھا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ تمام اشیاء جو عجائب گھروں میں رکھی ہیں یا حکومتی تحویل میں یا بینکوں کے لاکروں میں یا تجوریوں میں محفوظ پڑی ہیں ساری غیراہم ہیں۔اگر اہم ہیں تو کیوں ہر عام شخص کا ہاتھ اُن تک نہیں پہنچتا؟ بہت سی نادر کتب کے قیمتی قلمی نسخے جولائبریریوں یا عجائب گھروں میں محفوظ ہیں غیراہم ہیں ہاں ان نسخوں کی نقول بہت اہم ہیں کیوں کہ وہ عام شخص کی پہنچ میں ہیں۔امت محمد یہ میں تو قرآن کریم کی تعلیمات بہت عام تھیں اور حفظ اور تلاوت اور قرآنی تعلیمات کی نشر واشاعت بہت کثرت سے ہوا کرتی تھی۔پس یہ کہنا کہ خاص اس نسخہ کو عام طور پر استعمال نہ کیا گیا پس وہ غیر اہم تھا ایک غیر منطقی اور مبنی بر تعصب نتیجہ ہے۔جب قرآن کریم کے نسخہ جات کثرت سے موجود ہوں تو پھر اس ایک نسخہ کو جسے اس قدر محنت اور مشقت سے تیار کیا گیا تھا، حفاظت کے نکتہ نظر سے محفوظ رکھنا کس طرح یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ غیر اہم تھا ؟ اس سے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ خاص نسخہ دوسرے تمام نسخوں سے زیادہ اہم تھا۔سوال یہ ہے کہ جب ضرورت پڑی تو کیا پھر بھی اس نسخہ کو استعمال کیا گیا یا نہیں؟ یقیناً کیا گیا اور ہزاروں دوسرے صحائف کی موجودگی میں صرف اسے ہی استعمال کیا گیا۔تو کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ وہ نسخہ تمام دیگر نسخوں سے زیادہ اہم تھا؟ خلاصہ یہ کہ قرآن کریم جو آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زیر نگرانی تحریری شکل میں نزول کے ساتھ ساتھ جمع