اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 98
الذكر المحفوظ 98 کیا جاچکا تھا مگر اس وقت اس کو ایک جلد میں پیش کرنا ناممکن تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے ساتھ جب قرآنی وحی مکمل ہونے کا علم ہو گیا تو ایک جلد میں جمع کرنا ممکن ہوا اور احتیاط کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے اس جلد پر تمام امت کی گواہی جمع کی جارہی تھی کہ یہ قرآن کریم بعینہ وہی ہے جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے امت کے سپرد کیا ہے۔اور صحابہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد پوری دیانت داری کے ساتھ احتیاط کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے انتہائی خوش اسلوبی سے یہ خدمت سرانجام دی۔یعنی قرآن کو آخری کتابی شکل میں محفوظ کرتے ہوئے اس کی صداقت اور استناد پر تمام قوم کی گواہی بھی قائم کر دی اور ہمعصر مخالفین کی خاموشی اس پر ایک اور گواہ بن گئی۔جس طرح آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے دعوی کی ابتداء میں اپنی قوم کو اپنی صداقت پر گواہ بنایا پھر وفات کے قریب قوم سے گواہی لی کہ آپ نے اپنا فرض ادا کرلیا ہے اس طرح حضرت عمر کی تجویز اور اعانت سے حضرت ابوبکر کی سرکردگی میں حضرت زید بن ثابت نے تمام امت کو اس بات پر گواہ بنایا کہ آج قرآن کریم بعینہ وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے امت نے سیکھا تھا۔یہ تھاوہ مشکل کام جسے حضرت زیڈ نے پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے سے بھی زیادہ مشکل قراردیا تھا۔پس بفضلہ تعالیٰ یہ کام بپایہ تکمیل کو پہنچا۔الحمد للہ۔حضرت عثمان نے صحابہ کرام کے مشورہ اور اتفاق رائے سے اپنے دور خلافت میں اس نسخہ کو مملکت اسلامیہ میں ایک انتظام کے تحت شائع اور رائج کر دیا۔صحابہ کے دور میں قرآن کریم میں رد و بدل ناممکن تھا قرآن کریم کی جمع و تدوین کے ضمن میں یہ حقیقت ثابت ہو چکی کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کو پوری حفاظت کے ساتھ صحابہ کرام کے حوالے کر دیا اور اس سپردگی کے عمل میں ایسی کمال درجہ کی احتیاط برتی کہ کوئی دوسری کتاب اس میں حصہ دار نہیں اور اس ضمن میں ایسے انتظامات فرمائے کہ صحابہ کے لیے قرآن کریم کی حفاظت چنداں مشکل نہ رہی اور صحابہ نے کمال دیانت داری سے یہ قومی فریضہ سرانجام دیا۔محافظت قرآن کریم کا ایک پہلو یہ بھی ہے جب قرآن کریم صحابہ کرام کے سپرد کیا گیا تو اس انداز اور ان حالات میں کیا گیا کہ وہ اس میں کوئی رد و بدل کر ہی نہیں سکتے تھے۔کیونکہ: -1- تحریری صورت میں خوب پھیل چکا تھا۔2- حفظ کے ذریعے ہزاروں سینوں میں محفوظ ہو چکا تھا۔3- نماز میں تلاوت قرآن فرض تھی اس لیے ہر مسلمان کو کچھ نہ کچھ حصہ یاد کرنا ہوتا تھا جو نماز میں لوگوں کے