اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 57 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 57

عہد نبوی میں جمع و تدوین قرآن 57 غیر اسلامی یونیورسٹیوں میں بھی قرآن کریم کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں قرآن کریم کا متن محفوظ تھا اور تمام صحابہ کی پہنچ میں تھا اس کی ایک قومی گواہی حجتہ الوداع کے موقع پر ساری امت نے دی جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں خدا کا پیغام پہنچا دیا ہے۔لاکھوں کے اس مجمع نے یک زبان ہو کر اس حقیقت کا اعتراف کیا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں گواہی دی۔اگر قرآن کریم تحریری صورت میں اور حفظ کی صورت میں محفوظ نہ ہوتا اور تعلیم القرآن کا کما حقہ اہتمام نہ ہوتا تو اُس وقت ضرور یہ سوال اُٹھتا کہ یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ پیغام قوم تک پہنچ گیا جب کہ وحی الہی نہ تحریری صورت میں موجود ہے اور نہ ہی امت میں عام طور پر اس کی تعلیمات رائج ہیں ؟ لاکھوں کا وہ مجمع تبھی گواہی دے سکتا تھا جب اُن میں سے ہر ایک کو علم ہوتا کہ قرآن کریم اس کی پہنچ میں ہے۔اب اُس کی تعلیمات سے فائدہ اُٹھانایا نہ اٹھانا ان کی صوابدید پر ہے۔اب ایک طرف تدوین قرآن کے ضمن میں کی جانے والی ان مساعی کو دیکھیں اور دوسری طرف اعتراض کو دیکھیں جو اُٹھایا جارہا ہے کہ: The Prophet himself may have forgotten some verses, the companions` memory may have equally failed them, and the copyists may also have mislaid some verses۔We also have the case of the Satanic Verses, which clearly shows that Muhammad himself suppressed some verses۔(Ibn Warraq: Why I am Not A Muslim, Prometheus Books, New York, 1995, under heading; The Koran: Pg112) یعنی ہو سکتا ہے نبی (ع) خود کچھ آیات بھول گئے ہوں۔ہوسکتا ہے حفظ کرنے والے کچھ آیات بھول گئے ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کاتبین نے کچھ آیات غلط طور پرلکھ دی ہوں پھر ہمارے پاس شیطانی آیات کا قصہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ محمد (ﷺ) نے کچھ آیات خود بھی چھپالی ہیں۔یہاں ابن وراق نے قاری کے دل میں یہ شک ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ جس طرح تمام مذاہب کی تاریخ شکوک وشبہات سے پُر ہے یہی حال اسلامی تاریخ کا بھی ہے۔کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ کیا ہوا ہو گا۔بہت سے امکانات ہیں کہ ہوسکتا ہے فلاں حادثہ ہو گیا ہو یا فلاں حادثہ ہو گیا ہو۔حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔گزشتہ سطور میں حفاظت قرآن کے حوالہ سے تو ہم دیکھ آئے ہیں کہ اسلامی تاریخ تو چمکتے سورج کی طرح روشن اور واضح ہے اور اس میں ہر چیز ایسی واضح ہے جیسے دن کی روشنی میں۔چنانچہ حقین اس کا کھل کر اعتراف کرتے ہیں۔باسورتھ سمتھ دوسرے مذاہب کا تاریخی لحاظ سے غیر مستند اور کمزور ہونا بیان کرنے کے بعد اسلام کے بارہ میں لکھتے ہیں: But in Mohammedanism every thing is different here, instead of the shadowy and mysterious, we have his story۔