اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 46
الذكر المحفوظ 46 ہو جایا کرتے تھے۔(بخاری کتاب الصلاة باب قيام النبي ﷺ ان ترم قدماه۔۔۔۔۔) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنَ التَّسْبِيحَ وَالتَّكْبِيرِ (مشكاة المصابيح كتاب فضائل القرآن الفصل الثالث) ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، نماز میں قرآن کریم کا پڑھنا افضل ہے اس پڑھنے سے جو نماز کے علاوہ پڑھا گیا ہو اور نماز کے علاوہ قرآن کریم پڑھنا خدا تعالیٰ کی پاکیزگی اور بڑائی بیان کرنے سے زیادہ افضل ہے۔اسی طرح سال میں ایک مرتبہ ایک رمضان المبارک میں قرآن کریم کا کم از کم ایک دور کرنے کی عادت بہت مبارک ہے جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت کی اتباع میں آپ کے زمانہ سے چلی آرہی ہے، اس کے علاوہ نفل نماز میں قرآن کریم کا ایک دور ہے۔یہ مبارک عادت حضرت عمر کے دور سے نماز تراویح کی شکل میں باقاعدہ جاری ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہر رمضان میں ساری دنیا کی ہر بڑی مسجد میں سارا قرآن کریم حافظ لوگ حفظ سے بلند آواز کے ساتھ ختم کرتے ہیں ایک حافظ امامت کراتا ہے اور دوسرا حافظ اس کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے تا اگر کسی جگہ پر وہ بھول جائے تو اُس کو یاد کرائے۔اس طرح ( اس ایک ماہ میں ہی ) ساری دنیا میں لاکھوں جگہ پر قرآن کریم صرف حافظہ سے دہرایا جاتا ہے۔(دیباچہ تفسیر القرآن ضیاء الاسلام پر یس ربوہ صفحہ 277) امت مسلمہ نے صرف تلاوت کی کثرت کی حد تک ہی لبیک نہیں کہا بلکہ کمال اطاعت کا ایک بے مثل نمونہ اس طرح بھی قائم کیا کہ تلاوت قرآن کو با قاعدہ ایک سائنس کی شکل دی۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہدایات اور آپ کے ارشادات کی روشنی میں ، قرآن کریم کی تلاوت کے ضمن بھی امت مسلمہ نے بہت سے نئے علوم کی بنیاد ڈالی۔کسی اور زبان میں دیکھ کر پڑھنے کے بارہ میں ایسی تحقیق اور تفصیل سے اصول وضع نہیں کیے گئے جیسا کہ قرآن کی خدمت کی خاطر امت مسلمہ میں عربی زبان میں وضع کیے گئے۔مسلمانوں میں کس کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے اور تلاوت کرنے کے آداب اور علوم کو کس درجہ اہمیت حاصل ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ترتیل اور تجوید کا فن جو کہ تلاوت قرآن کے آداب وقواعد اور انداز کے بارہ میں با قاعدہ ایک سائنس کی شکل اختیار کر چکا ہے اور دُنیا بھر کے مسلمانوں میں بہت مقبول اور اس کا سیکھنا