اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 397
397 قرآن کریم کی معنوی محافظت آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ۔وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا تُصِيبَهُمُ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ أَوْتَحُلُّ قَرِيباً مِّنْ دَارِهِمْ حَتَّى يَأْتِيَ وَعْدُ اللهِ۔إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَاد الجز و نمبر ١٣ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا یعنی خدا تعالیٰ نے تمہارے لیے اے مومنان امت محمد یہ ہے وعدہ کیا ہے کہ تمہیں بھی وہ زمین میں خلیفہ کرے گا جیسا کہ تم سے پہلوں کو کیا اور ہمیشہ کفار پر کسی قسم کی کوفتیں جسمانی ہوں یا روحانی پڑتی رہیں گی یا ان کے گھر سے نزدیک آجائیں گی۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ آپہنچے گا اور خدا تعالیٰ اپنے وعدوں میں میں تخلف نہیں کرتا اور ہم کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ایک رسول بھیج نہ لیں۔ان آیات کو اگر کوئی شخص تامل اور غور کی نظر سے دیکھے تو میں کیونکر کہوں کہ وہ اس بات کو سمجھ نہ جائے کہ خدا تعالیٰ اس امت کے لیے خلافت دائی کا صاف وعدہ فرماتا ہے۔اگر خلافت دائی نہیں تھی تو شریعت موسوی کے خلیفوں سے تشبیہ دینا کیا معنی رکھتا تھے اور اگر خلافت راشدہ صرف تیں برس تک رہ کر پھر ہمیشہ کے لیے اس کا دور ختم ہو گیا تھا اس سے لازم آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہرگز یہ ارادہ نہ تھا کہ اس امت پر ہمیشہ کے لیے ابواب سعادت مفتوح رکھے کیونکر روحانی سلسلہ کی موت سے دین کی موت لازم آتی ہے اور ایسا مذہب ہرگز زندہ نہیں کہلا سکتا جس کے قبول کرنے والے خود اپنی زبان سے ہی یہ اقرار کریں کہ تیرہ سو برس سے یہ مذہب مرا ہوا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس مذہب کے لیے ہر گز یہ ارادہ نہیں کیا کہ حقیقی زندگی کا وہ نور جو نبی کریم کے سینہ میں تھا وہ توارث کے طور پر دوسروں میں چلا آوے۔(شهادة القرآن روحانی خزائن جلد شم صفحه 34 تا 35) حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ مسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اب رہا آئندہ کا سوال سو اس کا اول تو یہ جواب ہے کہ اس وقت تک اس میں کوئی تغیر نہیں ہوا اور آئندہ کے لیے قرآن کریم میں پیشگوئیاں موجود ہیں کہ جب بھی مسلمان اسلام سے غافل ہوں گے اللہ تعالیٰ ان میں مامور بھیجتا رہے گا۔پس اس وعدہ کی موجودگی میں ہم یقین رکھتے ہیں کہ چونکہ قرآن کریم سے ہمیشہ دنیا کی ضرورت پوری ہوتی رہے گی۔۔۔یقیناوہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے گا کیونکہ کوئی عقلمند آدمی اپنی کارآمد شے کو تباہ نہیں ہونے دیتا اور اللہ تعالیٰ تو سب عقلمندوں سے بڑھ کر عقلمند ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد چہارم صفحه 22 زیر تفسیر آیت الحجر 10)