اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 398 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 398

الذكر المحفوظ 398 قرآن کریم کے بعد اور کسی الہامی کتاب کے نزول کی ضرورت نہیں یہاں ایک خیال دل میں پیدا ہوتا ہے کہ زمانہ بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔کیسے ممکن ہے کہ ان بدلتے حالات میں تعلیم وہی کام آئے جو پندرہ سو سال پہلے نازل کی گئی۔یقینا بدلتے حالات اور جدید تقاضوں کے مطابق نئی تعلیم کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔پس قرآن کریم بے شک محفوظ رہے لیکن نئی تعلیم کی ضرورت بہر حال موجود ہے۔اس ضمن میں مختصر اعرض ہے کہ یہ ذکر گزرچکا ہے کہ قرآن کریم کا یہ دعوی ہے کہ یہ ایک کامل کتاب ہے جس میں قیامت تک بنی نوع کی تمام ضروریات اور مسائل کا حل موجود ہے۔ہاں یہ تمام مضامین ضرورت حقہ کے مطابق ظاہر ہوں گے۔یعنی جوں جوں زمانہ اپنی ضروریات اور مسائل پیش کرے گا قرآن کریم ان ضروریات کو پورا کرے گا اور ان مسائل کا حل پیش فرماتا چلا جائے گا۔چنانچہ آج بھی ضرورتِ زمانہ کے مطابق قرآن کریم کے معارف ظاہر ہورہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے چلے جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف ایسے زمانہ میں آیا تھا کہ جس میں ہر ایک طرح کی ضرورتیں کہ جن کا پیش آنا ممکن ہے پیش آگئی تھیں۔یعنی تمام امور اخلاقی اور اعتقادی اور قولی اور فعلی بگڑ گئے تھے اور ہر ایک قسم کا افراط تفریط اور ہر یک نوع کا فسادا اپنے انتہاء کو پہنچ گیا تھا۔اس لیے قرآن شریف کی تعلیم بھی انتہائی درجہ پر نازل ہوئی۔پس انہی معنوں سے شریعت فرقانی مختتم اور مکمل ٹھہری اور پہلی شریعتیں ناقص رہیں کیونکہ پہلے زمانوں میں وہ مفاسد کو کہ جن کی اصلاح کے لیے الہامی کتابیں آئیں وہ بھی انتہائی درجہ پر نہیں پہنچے تھے اور قرآن شریف کے وقت میں وہ سب اپنی انتہاء کو پہنچ گئے تھے۔پس اب قرآن شریف اور دوسری الہامی کتابوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی کتابیں اگر ہر یک طرح کے خلل سے محفوظ بھی رہتیں پھر بھی بوجہ ناقص ہونے تعلیم کے ضرور تھا کہ کسی وقت کامل تعلیم یعنی فرقان مجید ظہور پذیر ہوتا۔مگر قرآن شریف کے لیے اب یہ ضرورت در پیش نہیں کہ اس کے بعد کوئی اور کتاب بھی آوے۔کیونکہ کمال کے بعد اور کوئی درجہ باقی نہیں ہاں اگر یہ فرض کیا جائے کہ کسی وقت اصول حقہ قرآن شریف کے وید اور انجیل کی طرح مشرکانہ اصول بنائے جائیں گے اور تعلیم توحید میں تبدل اور تحریف عمل میں آوے گی اور اگر ساتھ اس کے یہ بھی فرض کیا جائے جو کسی زمانہ میں وہ کروڑہا مسلمان جو تو حید پر قائم ہیں وہ بھی پھر طریق شرک اور مخلوق پرستی کا اختیار کر لیں گے تو بے شک ایسی صورتوں میں دوسری شریعت اور دوسرے رسول کا آنا ضروری ہوگا۔مگر دونوں قسم کے فرض محال ہیں۔“ ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 101 حاشیہ )