اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 389 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 389

389 قرآن کریم کی معنوی محافظت اس قسم کے معاملات میں نہ پڑو تم سے پہلی امتیں انبیاء اور اُن کی کتب میں تقابل کر کے اُن کے بارہ میں اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ہیں۔قرآن کریم اس طرح تو نازل نہیں ہوا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو جھٹلائے بلکہ اس کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرتا ہے۔پس (اس اصول کو راہنما بناتے ہوئے ) جو سمجھ آئے اس کے مطابق عمل کرو اور جو سمجھ نہ آئے تو اُس سے پوچھ لیا کرو جو اس معاملہ میں اہل علم ہو۔پس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کو راہنما بناتے ہوئے ہمیں قرآن کریم کی وہی تفسیر کرنی چاہیے جو قرآن کریم کی دوسری آیات کے مطابق ہو نہ کہ اپنی مرضی کے معانی کر کے اُن تمام آیات کو منسوخ قرار دیدینا چاہیے جو ہمارے کیے ہوئے معانی کو رڈ کرتی ہوں۔اگر کسی آیت کے معانی قرآن کریم کی دوسری آیات کے خلاف ہوں تو لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ وہ معانی غلط ہیں کیونکہ قرآن تضاد سے پاک ہے۔پس درست معانی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر نہ سمجھ آئیں تو اہل علم سے رجوع کرنا چاہیئے۔کسی آیت کو مکمل طور پر نا سمجھنے کی صورت میں یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ وہ آیت منسوخ ہے اور نہ ہی کوئی شخص یہ دعوی کر سکتا ہے کہ وہ سب قرآن سمجھ چکا ہے پس نا مجھی پر کیسے ایک عقیدے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں: اللہ تعالی نے انسانوں میں بڑے بڑے علم والے لوگ پیدا کیے ہیں مگر کوئی نہیں کہ سکتا کہ میں نے سارا علم قرآن حاصل کر لیا ہے۔میں بھی کہ جس پر اللہ نے قرآن کریم کے بے شمار معارف کھولے ہیں نہیں کہہ سکتا کہ قرآن کریم کا سارا علم میں نے حاصل کر لیا ہے اگر ایسا ہوتا کہ کوئی شخص اس کے تمام معارف سمجھ لیتا تو قیامت آجاتی۔کیونکہ قرآن کریم قیامت تک کے لیے ہے اور اس کے بعد اور کوئی کتاب نہیں۔جب اس میں سے نئے نئے مضامین نکلنے بند ہوجائیں گے اس وقت قیامت آجائیگی۔پس اس کے معارف کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور یہ کتاب ہمیشہ نئے نئے مطالب دنیا میں ظاہر کرتی رہے گی۔( تفسیر کبیر جلد دوم صہ 98-97) قائلین نسخ کی یہ گستاخی بہت عجیب ہے کہ ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ ایک چھوڑ ایک کروڑ احادیث بھی قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں کر سکتیں لیکن دوسری طرف اپنے ظن سے قرآن کی آیات کو منسوخ قرار دیتے ہیں اور اپنی سوچ کا مرتبہ احادیث رسول سے بھی بڑا سمجھتے ہیں کہ گویا انہیں تو یہ حق حاصل ہے کہ کچھ آیات کو منسوخ قرار دے دیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق حاصل نہیں۔یہ ایسی بات ہے کہ ہر عقل مندا سے تسلیم کرنے سے انکار کر دے گا۔