اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 388 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 388

الذكر المحفوظ 388 جائز سمجھتے ہیں۔ان کے نزدیک بعد میں نازل ہونے والی جہاد کی آیات نے یہ آیت منسوخ کر دی ہے۔اگر اس منسوخ نہ کہا جائے تو تضاد پیدا ہوتا ہے قرآن میں۔سید ابوالاعلیٰ مودودی ارتداد کی سزا اسلامی قانون میں صہ 53,54 زیر عنوان عقل اور قتل مرتد بار اوّل جون 1951 ء مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی اچھرہ پاکستان ) جبکہ قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ قرآن کی دو آیات میں تضاد ہو تو ایک آیت کو منسوخ قراردے دو بلکہ خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ اگر تضاد ہو تو سمجھو کہ قرآن کریم خدا کی طرف سے ہے ہی نہیں بلکہ خدا کے سوا کسی کی طرف سے ہے۔چنانچہ فرمایا: لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (النساء: 83) اگر یہ قرآن اللہ کو چھوڑ کو اوروں کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت اختلاف پاتے۔تاریخ اسلام میں بہت کثرت سے احادیث درج ہیں جن میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تفسیر قرآن بالقرآن کے بارہ میں ارشاد فرمایا ہے۔مثلاً : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ لَقَدْ جَلَسْتُ أَنَا وَأَخِي مَجْلِسًا مَا أُحبُّ أَنَّ لي به حُمْرَ النعم أَقْبَلْتُ أَنَا وَأَخِي وَإِذَا مَشْيَحَةٌ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ عِنْدَ بَاب مِنْ أَبْوَابه فَكَرِهْنَا أَنْ نُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ فَجَلَسْنَا حَجْرَةً إِذْ ذَكَرُوا آيَةً مِنْ الْقُرْآن فَتَمَارَوْا فِيهَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا قَدْ احْمَرَّ وَجْهُهُ يَرْمِيهِمْ بالتُّرَابِ وَيَقُولُ مَهْلًا يَا قَوْمِ بِهَذَا أُهْلَكَتْ الْأُمَمُ مِنْ قَبْلِكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ أَنْبَيَائِهِمْ وَضَرْبِهِمْ الْكُتُبَ بَعْضَهَا بِبَعْضٍ إِنَّ الْقُرْآنَ لَمْ يَنْزِلُ يُكَذِّبُ بَعْضُهُ بَعْضًا بَلْ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا فَمَا عَرَفْتُمْ مِنْهُ فَاعْمَلُوا بــه وَمَـ جَهِلْتُمْ مِنْهُ فَرُدُّوهُ إِلَى عَالِمه مسند احمد بن حنبل مسند المكثرين من الصحابة حديث: 6415 وَمَا حضرت انس بن عیاض کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کسی مجلس میں تشریف فرما تھے۔اُنہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت کا تذکرہ کیا جس میں اُن کا آپس میں اختلاف ہو گیا اور آواز میں بلند ہوگئیں۔اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے۔آپ کا چہرہ شدت غضب سے سُرخ تھا۔آپ نے ناراضگی سے فرمایا اے میری قوم