اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 385
قرآن کریم کی معنوی محافظت 385 اور پرانا اور فرسودہ نہیں ہے اور اس میں بیان شدہ کوئی لفظ غیر اہم نہیں ہے۔اگر کوئی مسلمان یہ کہتا ہے کہ قرآن کریم میں کوئی لفظ منسوخ ہے تو وہ غلط کہتا ہے! قرآن کریم کلام الہی ہے اور اس کا ایک شعشہ بھی منسوخ نہیں اور ہر ایک حرف جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا بر حق اور رہتی دنیا تک کے لیے راہنمائی ہے اور اسی طرح قابل عمل ہے جیسا کہ بوقت نزول قابل عمل تھا۔گو عام طور پر مسلمان علماء نسخ فی القرآن کے قائل ہیں لیکن آئمہ جب نسخ کی بات کرتے ہیں تو صرف یہ مراد ہوتی ہے کہ قرآن کریم کی آیت کے جو معنی ہم کیا کرتے تھے ان معانی کا غلط ہونا فلاں آیت کے نزول سے ثابت ہو گیا ہے۔پس سخ سے مراد شیخ معانی تھا۔گویا نسخ سے مراد یہ تھی کہ ہماری نظر میں اس آیت کے جو معنی ہیں دوسری آیت اُن معنی کو درست قرار نہیں دیتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب و ماوی ہے اور ایک شعشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود داورا حکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہوسکتا اور نہ کم ہوسکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو حکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغییر کرسکتا ہو۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 170 ) ابن وراق کے لیے تو اتنا جواب کافی ہے لیکن اپنے باقی مسلمان بھائیوں کے لیے ہمدردی اور محبت کے جذبات کے ساتھ عرض ہے کہ ایک طرف تو آپ قرآن کریم کو کلام الہی تسلیم کرتے ہیں اور دوسری طرف اس میں ایسے نسخ کے قائل ہیں کہ گویا قرآن کریم میں ایک آیت نازل ہوتی تھی پھر وہ کالعدم ہوجاتی تھی۔یہ دو متضاد عقائد کیونکر اکٹھے ہو سکتے ہیں؟ ایسا عقیدہ رکھنے سے عقل و خرد کو خیر آباد کہنا پڑتا ہے۔خاص کر اس صورت میں تو بالکل ہی اس عقیدہ کو چھوڑنا پڑتا ہے کہ جب یہ علم ہوتا ہے کہ قرآن کریم اس عقیدہ کو رد کرتا ہے اور کسی صحیح حدیث میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم میں نسخ کا ذکر نہیں فرماتے اور نہ ہی صحابہ یہ ذکر کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فلاں آیت کو فلاں آیت سے منسوخ قرار دیتے تھے۔ذیل میں ہم نسخ فی القرآن کے قائلین کے عقیدہ کا مختصر تجزیہ کرتے ہیں: قرآن کریم میں نسخ کو جائز سمجھنے والے ایک دلیل اس آیت سے پیش کرتے ہیں: مَا نَفْسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْ تُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلَّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔(البقره: 107) ترجمہ: جو آیت بھی ہم منسوخ کر دیں یا اُسے بھلا دیں ، اُس جیسی یا اُس سے بہتر ضرور لے آتے ہیں۔کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے؟ اس سے یہ مطلب اخذ کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ قرآن کریم کی کوئی بھی آیت میں منسوخ کر دیتا ہوں