اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 374
الذكر المحفوظ 374 صندوقوں میں بندر ہے گا جیسے بعض مدفون خزا نے گوکسی کے کام نہیں آتے مگر زمین کے نیچے محفوظ پڑے رہتے ہیں کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ اس آیت سے خدا تعالی کا یہی منشاء ہے۔اگر یہی منشاء ہے تو ایسی حفاظت کوئی کمال کی بات نہیں بلکہ یہ تو ہنسی کی بات ہے اور ایسی حفاظت کا منہ پر لانا دشمنوں سے ٹھٹھا کرانا ہے کیونکہ جبکہ علت غائی مفقود ہو تو ظاہری حفاظت سے کیا فائدہ ممکن ہے کہ کسی گڑھے میں کوئی نسخہ انجیل یا توریت کا بھی ایسا ہی محفوظ پڑا ہوا اور دنیا میں تو ہزار ہا کتابیں اسی قسم کی پائی جاتی ہیں کہ جو یقینی طور پر بغیر کسی کمی بیشی کے کسی مؤلف کی تالیف سمجھی گئی ہیں تو اس میں کمال کیا ہوا اور امت کو خصوصیت کے ساتھ فائدہ کیا پہنچا؟ گو اس سے انکار نہیں کہ قرآن کی حفاظت ظاہری بھی دنیا کی تمام کتابوں سے بڑھ کر ہے اور خارق عادت بھی لیکن خدا تعالیٰ جس کی روحانی امور پر نظر ہے ہر گز اس کی ذات کی نسبت یہ گمان نہیں کر سکتے کہ اتنی حفاظت سے مراد صرف الفاظ اور حروف کا محفوظ رکھنا ہی مراد لیا ہے حالانکہ ذکر کا لفظ بھی صریح گواہی دے رہا ہے که قرآن بحیثیت ذکر ہونے کے قیامت تک محفوظ رہے گا اور اس کے حقیقی ذاکر ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے اور اس پر ایک اور آیت بھی بین قرینہ ہے اور وہ یہ ہے بَلْ هُوَ أَيَاتٌ بَيِّنَاتُ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ یعنی قرآن آیات بینات ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔پس ظاہر ہے کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ مومنوں کو قرآن کریم کا علم اور نیز اس پر عمل عطا کیا گیا ہے اور جب کہ قرآن کی جگہ مومنوں کے سینے ٹھہرے تو پھر یہ آیت کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُون بجز اس کے اور کیا معنی رکھتی ہے کہ قرآن سینوں سے محو نہیں کیا جائے گا جس طرح کہ توریت اور انجیل یہود اور نصاریٰ کے سینوں سے محو کی گئی اور گوتو ریت اور انجیل ان کے ہاتھوں اور ان کے صندوقوں میں تھی لیکن ان کے دلوں سے محو ہو گئی یعنی ان کے دل اس پر قائم نہ رہے اور انہوں نے توریت اور انجیل کو اپنے دلوں میں قائم اور بحال نہ کیا۔غرض یہ آیت بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ کوئی حصہ قرآن کا بر باد اور ضائع نہیں ہوگا اور جس طرح روز اول سے اس کا پودا دلوں میں جمایا گیا۔یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔دوم جس طرح پر کہ عقل اس بات کو واجب اور تم ٹھہراتی ہے کہ کتب الہی کی دائمی تعلیم اور تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ ہمیشہ انبیاء کی طرح وقتا فوقتا ملہم اور مکام اور صاحب علم لدنی پیدا ہوتے رہیں۔اسی طرح جب ہم قرآن پر نظر ڈالتے ہیں اور غور کی نگہ سے اس کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی بآواز بلند یہی فرما رہا ہے کہ روحانی معلموں کا ہمیشہ کے لیے ہونا اس کے ارادہ قدیم میں مقرر ہو چکا ہے دیکھو اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمُكتُ فِي الْأَرْضِ الجُزو نمبر ١٣