اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 375 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 375

قرآن کریم کی معنوی محافظت 375 یعنی جو چیز انسانوں کو نفع پہنچاتی ہے وہ زمین پر باقی رہتی ہے اب ظاہر ہے کہ دنیا میں زیادہ تر انسانوں کو نفع پہنچانے والے گروہ انبیاء ہیں کہ جو خوارق سے معجزات سے، پیشگوئیوں سے، حقائق سے ، معارف سے، اپنی راستبازی کے نمونہ سے انسانوں کے ایمان کو قومی کرتے ہیں اور حق کے طالبوں کو دینی نفع پہنچاتے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ دنیا میں کچھ بہت مدت تک نہیں رہتے بلکہ تھوڑی سی زندگی بسر کر کے اس عالم سے اٹھائے جاتے ہیں۔لیکن آیت کے مضمون میں خلاف نہیں اور ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کا کلام خلاف واقع ہو۔پس انبیاء کی طرف نسبت دیکر معنی آیت کے یوں ہوں گے کہ انبیاء من حیث الظل باقی رکھے جاتے ہیں اور خدا تعالی ظلمی طور پر ہر یک ضرورت کے وقت میں کسی اپنے بندہ کو ان کی نظیر اور مثیل پیدا کر دیتا ہے جو انہیں کے رنگ میں ہوکر ان کی دائمی زندگی کا موجب ہوتا ہے اور اسی ظلی وجود قائم رکھنے کے لیے خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھائی ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے خدا ہمارے ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو تیرے ان بندوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا انعام جو انبیاء پر ہوا تھا جس کے مانگنے کے لیے اس دعا میں حکم ہے اور وہ درم اور دینار کی قسم میں سے نہیں بلکہ وہ انوار اور برکات اور محبت اور یقین اور خوارق اور تائید سماوی اور قبولیت وار معرفت تامہ کاملہ وروحی اور کشف کا انعام ہے اور خدا تعالیٰ نے اس امت کو اس انعام کے مانگنے کے لیے بھی حکم فرمایا کہ اول اس انعام کے عطا کرنے کا ارادہ بھی کر لیا۔پس اس آیت سے بھی کھلے کھلے طور پر یہی ثابت ہوا کہ خدا تعالی اس امت کو ظنی طور پر تمام انبیاء کا وارث ٹھہراتا ہے تا انبیاء کا وجود ظلمی طور پر ہمیشہ باقی رہے اور دنیا ان کے وجود سے بھی خالی نہ ہو اور نہ صرف دعا کے لیے حکم کیا بلکہ ایک آیت میں وعدہ بھی فرمایا ہے اور وہ یہ ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یعنی جو لوگ ہماری راہ میں جو صراط مستقیم ہے مجاہدہ کریں گے تو ہم ان کو اپنی راہیں بتلادیں گے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہیں وہی ہیں جو انبیاء کو دکھلائی گئیں تھیں۔پھر بعض اور آیات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور خداوند کریم نے یہی ارادہ فرمایا ہے کہ روحانی معلم جو انبیاء کے وارث ہیں ہمیشہ ہوتے رہیں اور وہ یہ ہیں۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمُ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ۔وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا تُصِيهُمُ بِمَا صَنَعُوا قَارِعَةٌ أَوْتَحُلُّ قَرِيباً مِّنْ دَارِهِمْ حَتَّى يَأْتِيَ وَعْدُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَاد الجزو نمبر ١٣ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا یعنی خدا تعالیٰ نے تمہارے لیے اے مومنان امت محمدیہ علیہ وعدہ کیا ہے کہ تمہیں بھی وہ زمین میں خلیفہ کرے گا