اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 364
الذكر المحفوظ 364 کیونکر بڑے بڑے سنگین دلوں کو اس طرف کھینچ لاتی ہیں۔یہ رائے کوئی ظنی اور شکی رائے نہیں بلکہ ایک یقینی اور قطعی امر ہے۔لیکن افسوس اُن لوگوں پر جو خیر اور شر میں فرق نہیں کر سکتے اور شتاب کاری کی راہ سے اعتراض کرنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ہمیں مداہنہ سے تو صاف منع فرمایا ہے لیکن حق کے اظہار سے باندیشہ اس کی مرارت اور تلخی کے باز آجانے کا کہیں حکم نہیں فرمایا۔فتدبروا ايها العلماء المستعجلون الا تقرؤن الفرقان مالكم كيف تحكمون۔دراصل تہذیب حقیقی کی راہ وہی راہ ہے جس پر انبیاء علیہم السلام نے قدم مارا ہے جس میں سخت الفاظ کا داروئے تلخ کی طرح گاہ گاہ استعمال کرنا حرام کی طرح نہیں سمجھا گیا بلکہ ایسے درشت الفاظ کا اپنے محل پر بقدر ضرورت و مصلحت استعمال میں لانا ہر ایک مبلغ اور واعظ کا فرض وقت ہے جس کے ادا کرنے میں کسی واعظ کا سستی اور کاہلی اختیار کرنا اس بات کی نشانی ہے کہ غیر اللہ کا خوف جو شرک میں داخل ہے اس کے دل پر غالب اور ایمانی حالت اس کی ایسی کمزور اور ضعیف ہے جیسے ایک کیڑے کی جان کمزور اور ضعیف ہوتی ہے۔(ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد سوم صفحہ 116, 115 ایڈیشن اول صفحہ 25 تا 28 زیر عنوان ہم اور ہمارے نکتہ چین)