اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 363
حفاظت قرآن کریم پر متفرق اعتراضات 363 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر حملہ آور ہوتے ہو جن کی نیتیوں کی پا کی تمہارے لوگوں کی نیتوں سے ہزار گنا زیادہ قابل قبول اور قابل اعتماد ہے۔یہ نا انصافی کی باتیں ہیں، بے حیائی کی باتیں ہیں۔تقویٰ سے خالی ، سچائی سے خالی۔صرف وہی بات ہے کہ کھول رہے ہو غصے میں، اسلام کیوں نہیں مٹا دیا گیا ایک ہی وقت تھا تمہاری نظر میں جب کہ اسلام کو کلیۂ نابود کیا جاسکتا تھا اور نہیں ہو سکا نتیجہ کچھ اور نکل آیا۔“ درس القرآن 5 رمضان 16 فروری 1994 ء زیر آیت و لقد صدقكم الله وعده اذ تحسونهم۔۔۔۔۔۔آل عمران 153 تا 155 ) جہاں تک ابن دراق اور اس قماش کے دوسرے لوگوں کی اس قسم کی گھٹیا کوششوں کا تعلق ہے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر دیانت دار اور سعید فطرت شخص جو ایسے اعتراض پڑھ کر تحقیق کی نظر سے اسلام کو دیکھے گا تو یہ اور اس جیسی دوسری تمام کتب اور ان کتب کے لکھنے والوں سے متنفر ہو کر اسلام کے قریب ہی ہوگا نہ کہ دُور۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یقیناً سمجھنا چاہیے کہ دین اسلام کو سچے دل سے وہی لوگ قبول کریں گے جو باعث سخت اور پُر زور جگانے والی تحریکوں کے کتب دینیہ کی ورق گردانی میں لگ گئے ہیں اور جوش کے ساتھ اس راہ کی طرف قدم اُٹھا رہے ہیں گو وہ قدم مخالفانہ ہی سہی۔ہندوؤں کا وہ پہلا طریق ہمیں بہت مایوس کرنے والا تھا جو اپنے دلوں میں وہ لوگ اس طرز کو زیادہ پسند کے لائق سمجھتے تھے کہ مسلمانوں سے کوئی مذہبی بات چیت نہیں کرنی چاہیے اور ہاں میں ہاں ملا کر گزارہ کر لینا چاہیے لیکن اب وہ مقابلہ پر آکر اور میدان میں کھڑے ہو کر ہمارے تیز ہتھیاروں کے نیچے آپڑے ہیں اور اس صید قریب کی طرح ہو گئے جس کا ایک ہی ضرب سے کام تمام ہوسکتا ہے ان کی آہوا نہ سرکشی سے ڈرنا نہیں چاہیے دشمن نہیں ہیں وہ تو ہمارے شکار ہیں۔۔۔سوتم اُن کے جوشوں سے گھبرا کر نومیدمت ہو کیونکہ وہ اندر ہی اندر اسلام کی ڈیوڑھی کے قریب آپہنچے ہیں۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو لوگ مخالفانہ جوش سے بھرے ہوئے آج تمہیں نظر آتے ہیں تھوڑے ہی زمانے کے بعد تم انہیں نہیں دیکھو گے۔حال میں جو آریوں نے ہم لوگوں کی تحریک سے مناظرات کی طرف قدم اُٹھایا ہے تو اس قدم اُٹھانے میں گو کیسی ہی سختی کے ساتھ اُن کا برتاؤ ہے اور گو گالیوں اور گندی باتوں سے بھری ہوئی کتابیں وہ شائع کر رہے ہیں مگر وہ اپنے جوش سے در حقیقت اسلام کیلئے اپنی قوم کی طرف راہ کھول رہے ہیں اور ہماری تحریکات کا واقعی طور پر کوئی بد نتیجہ نہیں ہاں یہ تحریکات کو تہ نظروں کی نگاہ میں بدنما ہیں مگر کسی دن دیکھنا کہ یہ تحریکات