اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 362
الذكر المحفوظ 362 کہتے ہیں کہ ہمیں اسلام دشمنی پر بنی اور دجل و فریب سے گندھی ہوئی کسی ہمدردی کی ضرورت نہیں ! اسلام کی حسین تعلیم میں کسی ظلم کی ادنی اسی بھی گنجائش نہیں ہے اور قرآن کریم میں تو یہ بہت واضح اعلان ہے کہ: إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ یعنی اللہ تعالیٰ تعالیٰ اپنے بندوں پرادنی سا بھی ظلم روا نہیں رکھتا پس جماعت احمدیہ قرآن کریم کے اس اعلان پر بھی ایمان لاتی ہے اور غلطی خوردہ ظالموں کے ظلم پر خدا کی عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کرتی ہے اور جماعت کے نزدیک ابن وراق کی اس جھوٹی ہمدردی کی کوڑی کی بھی حیثیت نہیں ہے۔اتنے اعتراضات تو جمع کرنے سے ہی انسان کو تمام اعتراضات کا جواب مل جاتا ہے کیونکہ ایک کتاب میں ایک بات اعتراض کے رنگ میں لکھی ہوتی ہے اور دوسری کتاب میں اسی اعتراض کا جواب مل جاتا ہے اور کسی دوسرے پہلو پر اعتراض ہوتا ہے۔بہر حال ان کا حال تو وہی ہے کہ: يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّـهِ بِأَفْوَاهِهِم وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ (التوبة: 32) یعنی وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو بالضرور پورا کرنے والا ہے خواہ کافر کتنا ہی نا پسند کریں۔ایک لطف کی بات یہ ہے کہ ابن اوراق کسی قسم کی شرم یا حیا کو اپنا منہ چھپانے کی وجہ قرار نہیں دیتا بلکہ کہتا ہے کہ جس طرح سلمان رشدی کی کتاب کے بعد مسلمانوں نے جوش دکھایا تھا اور اسے جان کے لالے پڑ گئے تھے اسی طرح مجھے بھی اپنی جان کی فکر ہے۔ہم اس وقت مسلمانوں کے رویہ پر تبصرہ کر کے مضمون کو طویل نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ بیان کر دیتے ہیں یہ کہہ کر ابن وراق خود ہی اپنی کرتوتوں کو سلمان رشدی سے ملا رہا ہے اور اس حقیقت سے کون اہل علم واقف نہیں کہ سلمان رشدی کی بدنام زمانہ کتاب کی بیہودگی پر صرف اہل اسلام ہی نہیں بلکہ غیر مسلم مہذب دنیا نے بھی احتجاج کیا تھا۔پس خود ہی ایک مکر وہ انسان سے جاملا۔حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسے مکروہ دماغ ہیں کہ کراہت آتی ہے ان میں جھانکتے ہوئے بھی۔لیکن وہ خودا گلتے ہیں تو دیکھنا پڑتا ہے۔یہ بعض کی الٹیاں ہیں، قے ہے جو یہ باہر نکالتے رہتے ہیں وقتا فوقتا ، اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ اسلام کے خلاف کیسے بغض میں پلے ہوئے ہیں ؟۔۔۔ایک جھوٹا بے بنیاد الزام ہے تم ایک ایسی بات کو جو اس سے کئی گنا زیادہ ناممکن ہے اس کو قبول کر کے