اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 361 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 361

حفاظت قرآن کریم پر متفرق اعتراضات 361 حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔دوسرا معجزہ قرآن شریف کا جو ہمارے لیے حکم مشہود و محسوس کا رکھتا ہے وہ عجیب وغریب تبدیلیاں ہیں جو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں برکت پیروی قرآن شریف واثر صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم ظہور میں آئیں۔جب ہم اس بات کو دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ مشرف باسلام ہونے سے پہلے کیسے اور کس طریق اور عادت کے آدمی تھے اور پھر بعد شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم و اتباع قرآن شریف کس رنگ میں آئے اور کیسے عقائد میں ، اخلاق میں، چلن میں، گفتار میں، رفتار میں، کردار میں اور اپنی جمیع عادات خبیث حالت سے منتقل ہو کر نہایت طیب اور پاک حالت میں داخل کئے گئے تو ہمیں اس تاثیر عظیم کو دیکھ کر جس نے ان کے زنگ خوردہ وجودوں کو ایک عجیب تازگی بخشی اور روشنی اور چمک بخش دی تھی اقرار کرنا پڑتا ہے کہ یہ تصرف ایک خارق عادت تصرف تھا جو خاص خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے دکھایا۔( بحوالہ مرزا غلام احمد اپنی تحریرات کی رو سے صفحہ 519) ایک طرف اخلاق فاضلہ کی اعلی ترین مثالیں قائم کیں اور خدا کی عبادت اور تقویٰ اور توحید کے قیام کا ایسا نمونہ دکھایا کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔جدید علوم کی نہ صرف بنیاد ڈالی بلکہ ان کو اپنے دور کے مطابق ان کی معراج تک پہنچا دیا۔علم کے ہر میدان میں ایسے ایسے کارنامے دکھائے کہ اور کسی قوم کو یہ علوشان نصیب ہی نہیں ہوئی۔گہرے عقلی مضامین اور فلسفیانہ نکات نکالے اور پرانے فلسفہ کی اصلاح کی عظیم ترین سائنس دان پیدا کیے۔جدید علوم کے بانی مبانی بنا اور بے شمار علوم کی بنیاد ڈالنا۔اب یہ سعادت کون لے سکتا ہے؟ کیا یہ سب عالی شان لوگ اس کتاب کے پیروکار اور حافظ تھے جس کی پیروی سے انسانیت جاتی رہتی ہے اور جس کے حفظ کرنے سے دماغی صلاحیتوں کو نقصان ہوتا ہے؟ اور پیروکار بھی ایسے کہ جو اپنی ہر بات کی بنیاد قرآن کریم پر رکھتے تھے۔پس پہلا نتیجہ ہی درست نظر آتا ہے کہ ابن وراق ہی جھوٹ بول رہا ہے۔کچھ تو عقل سے کام لیتا کہ اسلام کی خوبیوں میں سے کچھ خوبیاں تو تسلیم کرلوں کہ تا کہ لوگ کم از کم یہ ہی سمجھ لیں کہ کوتاہ بین جاہلوں میں ایک اور کا اضافہ ہوا ہے نہ کہ یہ مجھنے لگیں کہ سلمان رشدی کا ساتھی پیدا ہو گیا ہے۔اعتراضات پر اعتراضات جمع کرتا جارہا ہے جس میں ہر قسم کا جھوٹ اور فریب کوٹ کوٹ کر بھرتا چلا جا رہا ہے۔ہر جگہ دجل اور فریب گویا اس کے علاوہ اس شخص کے پاس اس کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔چنانچہ نام نہاد مسلمانوں کی طرف سے جماعت احمدیہ پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کا ذکر کرتا ہے۔جو صرف یہ ذکر پڑھے وہ کہتا ہے کہ یہ بات درست ہے لیکن اس کا دجل تب ظاہر ہوتا ہے جب ان مظالم کو پیش اصل اسلامی تعلیم کے طور پر کر دیتا ہے۔پس ہم بآواز بلند