اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 353
حفاظت قرآن کریم پر متفرق اعتراضات 353 تھوڑے ہی دنوں کے بعد اندھا ہو جائے گا اور اگر کان بند رکھے تو بہرہ ہو جائے گا۔اور اگر ہاتھ پاؤں حرکت سے بند رکھے تو آخر یہ نتیجہ ہوگا کہ ان میں نہ حس باقی رہے گی اور نہ حرکت۔اسی طرح اگر قوت حافظہ سے کبھی کام نہ لے تو حافظہ میں فتور پڑے گا۔اور اگر قوت متفکرہ کو بیکار چھوڑ دے تو وہ بھی گھٹتے گھٹتے کالعدم ہو جائے گی۔سو یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ اس نے بندوں کو اس طریقہ پر چلانا چاہا جس پر ان کی قوت نظریہ کا کمال موقوف ہے۔(براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 507 تا 509 ایڈیشن اول صفحہ 424 تا 426) پس انسانی قومی کو تو اللہ تعالیٰ نے اس طرح تخلیق کیا ہے کہ جن قومی کو زیادہ استعمال میں لایا جاتا ہے وہ طاقتور ہوتے چلے جاتے ہیں اور جن قومی کو استعمال میں نہ لایا جائے وہ کمزور تر ہوتے جاتے ہیں۔اسی لیے از منہ گزشتہ میں عمومی طور پر بنی نوع آج کے دور کے انسان سے زیادہ مضبوط اور صحت مند تھے۔اس کی ایک وجہ اپنے قویٰ کا زیادہ استعمال تھا۔اسی طرح بنی نوع عمومی طور پر ، موجودہ دور کے ترقی یافتہ طبقہ میں پلنے بڑھنے والے انسان سے زیادہ اچھے حافظہ کے مالک تھے۔اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ازمنہ گزشتہ سے حوالے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔کسی ایسے بچے سے جو روایتی انداز میں حساب کتاب کا عادی ہو کوئی حسابی جمع تفریق کروا کر دیکھیں تو وہ اس بچے کی نسبت بہت جلد کرلے گا جو کیلکو لیٹ اور کمپیوٹر وغیرہ کی مدد حاصل کرنے کا عادی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک بچہ روایتی طور پر حسابی سوالات حل کرنے کے لیے ذہن سے کام لیتا ہے اور اس مشق سے اس کا ذہن حساب کتاب میں تیز ہو جاتا ہے۔لیکن ایک دوسرا بچہ جو کسی ایسے معاشرہ کا فرد ہے جہاں کیلکولیٹ اور کمپیوٹر کا رواج ہے تو وہ بجائے ذہن استعمال کرنے کے فوراً کسی حسابی آلے کی مدد سے سوال حل کرتا ہے۔گوکیلکو لیڑ سے حل کرنے کی رفتار عام رفتار کی نسبت تیز ہوتی ہے مگر اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ذہن کام کے اتنا قابل نہیں رہتا جتنا کہ اس بچے کا جو کیلکولیٹر یا کمپیوٹر کی بجائے اپنے ذہن کا استعمال کرتا ہے۔اسی طرح عمومی طور پر مزدور پیشہ افراد ظاہری طور پر ان افراد سے زیادہ مضبوط اور صحت مند ہوتے ہیں جو دفتری کام کرتے ہیں۔پس اب ابن وراق بیچارے نے قرآن کریم کی دشمنی اور بغض میں قوانین قدرت کو بدلنے کا بیڑہ اُٹھا لیا ہے تو اس کی عقل پر ماتم کرنے کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے؟ تعصب اور بغض میں اتنا اندھا ہو رہا ہے اور دل میں ایسی آگ لگی ہوئی ہے کہ بجھنے کو ہی نہیں آرہی۔اس غم میں جلتا جارہا ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت کے لیے کیوں اس درجہ بے مثل اقدام کیے گئے کہ کوئی شک ہی نہیں رہنے دیا؟ کیوں نہ قرآن کو نزول کے ساتھ ہی ختم کر دیا گیا؟ محافظت قرآن شریف کی عدیم النظیر حقیقت نے اس نادان دشمن بدطینت کو پاگل کر دیا ہے۔اب کچھ بس نہیں چل رہا تو دل کی آگ بجھانے کے لیے قوانین قدرت کو جھٹلانا شروع کر دیا ہے؟ اب کون اسے سمجھائے کہ