اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 20 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 20

الذكر المحفوظ 20 ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زیر نگرانی کپڑے یا چمڑے کے ٹکڑوں پر قرآن کریم تحریر کیا کرتے تھے۔پھر بخاری میں ایک روایت ہے جس میں حضرت ابو بکر حضرت زید بن ثابت سے فرماتے ہیں: نیز آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کاتب وحی بھی تھے۔اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ ہی یہ کام کریں کہ مختلف چیزوں پر لکھے ہوئے حصہ ہائے قرآن کو تلاش کریں اور سارے قرآن کو ایک جگہ جمع کر دیں۔اس پر حضرت ابوبکر نے مجھ سے مسلسل اتنا اصرار کیا کہ آخر خدا نے مجھے بھی اس معاملہ میں شرح صدر عطا فرمایا جس بارہ میں حضرت ابوبکر و عمر (رضی اللہ عنھما) کو شرح صدر عطا فر مایا تھا۔تب میں نے مختلف جگہوں اور چیزوں سے قرآن کی آیات جمع کیں جو کھجور کی ٹہنی کی ڈنٹھل اور پتھر کی باریک سلوں اور لوگوں کے سینوں میں محفوظ تھیں۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن اس روایت سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کتابت قرآن کریم کا خاص اہتمام فرماتے اور اس مقصد کے لیے با قاعدہ کا تین مقرر تھے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت سارا قرآن کریم تحریری صورت میں محفوظ تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ایک ارشاد یہ ملتا ہے: لا تكتبوا عنّى شيئا سوى القرآن (مسند احمد بن حنبل؛ الباقى مسند المكثرين : مسند ابی سعید الخذری) یعنی مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرو۔اسی طرح فرمایا: لا تكتبوا عنى و من كتب عنى غير القرآن فلیمحه (مسلم كتاب الذهد باب التثبت في الحديث و حكم كتابة العلم) حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ میرے حوالہ سے کوئی چیز نہ لکھا کرو اور اگر کسی نے قرآن کے علاوہ کچھ اور لکھا ہو تو اس کو مٹادے۔یہ روایت بھی جہاں کتابت وحی قرآن کو بیان کرتی ہے وہاں وحی قرآن کو ہر دوسری چیز سے جدا، ممتاز اور پاک رکھنے کی مساعی پر بھی خوب روشنی ڈالتی ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ میں قرآن کریم تحریر کرنے کا عام رواج تھا اور اس خطرہ کے پیش نظر کہ کہیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات قرآن کریم کی آیات کے ساتھ مل جل نہ جائیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نصیحت فرمائی۔چنانچہ صحابہ نے اس نصیحت پر بھی لبیک کہا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: