اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 342 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 342

الذكر المحفوظ 342 اس دور میں جس حد تک ان سے ممکن تھا انہوں نے ہر ایک واقعہ کو انتہائی تفصیل اور ثبوت کے ساتھ پیش کیا ہے۔تاہم بہت سے موقعوں پر وہ اس بات کو واضح بھی کرتے ہیں کہ وہ خود بھی پیش کردہ واقعے یا ثبوت سے متفق نہیں ہیں۔اس سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ اس کے باوجود کہ ان مؤرخین کی پیغمبر اسلام کی ذات مبارکہ سے گہری عقیدت تھی، انہوں نے آپ کی زندگی کی تفصیلات کو ممکنہ حد تک درست اور ٹھوس دلائل اور شواہد کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔( محمد ( ﷺ ) باب دوم صفحہ 59 58 پبلشرز علی پلازہ 3 مزنگ روڈ لاہور ) ہمیں مذکورہ بالا حوالہ میں مصنفہ کی تمام باتوں سے اتفاق ہونا ضروری نہیں۔درج کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ دیانت دار محققین تسلیم کرتے ہیں کہ اسلامی مؤرخین اور محققین نے کس دیانت داری سے گردش کرنے والی تمام سچی اور جھوٹی تفصیلات کو اکٹھا کر دیا ہے۔اس قسم کی کمزور اور جھوٹی روایات اہل سنت کی طرف بھی منسوب کی گئی ہیں اور اہل تشیع کی طرف بھی مگر مستشرقین زیادہ تر اہل تشیع کی روایات پر اپنے اعتراضات کی بنیادر رکھتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل تشیع کی اکثر روایات کی صحت پر کماحقہ تحقیق نہیں کی گئی۔اہل سنت کے مقابل پر اہل تشیع روایات اور تاریخ کی تحقیق میں بہت ناقص ثابت ہوئے ہیں۔اہل تشیع کے سامنے کوئی بھی روایت اہل بیعت یا ائمہ کی طرف منسوب کر کے بیان کی جائے تو بلا تحقیق فورا لتسلیم کر لیتے اور زیادہ تر جذباتیت کی نظر سے اسے دیکھتے اور غیرت کے نام پر اس کے بارہ میں یہ سننا بھی گوارا نہیں کرتے کہ یہ روایت بے اصل اور اہل تشیع کی اہل بیعت اور ائمہ سے محبت کا نا جائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے گھڑی گئی ہے۔حالانکہ محبت کا صحیح تقاضا تو یہ تھا کہ اہل بیت کے اصل اقوال کی کھوج کی جاتی اور ان کی طرف منسوب جھوٹی باتیں اُن سے دُور کی جاتیں کیونکہ وہ اُن پاک وجودوں پر الزام ہیں۔ان روایات کو گھڑنے کی ایک اور وجہ اصحاب النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نفرت اور تعصب بنی۔وہ روایات جن میں صحابہ کی ذم ہوتی ان کو بلا تحقیق تسلیم کر لیا جاتا۔حضرت علی نہج البلاغہ میں خطبہ نمبر 127 میں اسی خطرہ کا اظہار فرماتے ہیں کہ خطرہ ہے کہ محبت میں غلو کی وجہ سے یا نفرت میں شدت کی وجہ سے تم لوگ گمراہ ہو جاؤ گے۔چنانچہ تاریخ کے حوالہ سے یہ بات مزید واضح ہو کر سامنے آگئی ہے۔اہل سنت کی روایات کے بارہ میں گہری تحقیقات کی گئیں اور جب بھی ان روایات کی بنیاد پر کوئی غلط نتیجہ نکالنے کی کوشش کی گئی تو اکثر و بیشتر ایسی روایات کے بارہ میں معلوم ہوا کہ اہل علم پہلے سے ہی اس کا غلط ہونا ثابت کر چکے ہیں۔جبکہ اہل تشیع کی روایات عام طور پر روایت اور درایت کے اصولوں کی پروا کیے بغیر تسلیم کر لی گئی ہیں اور انہیں کتابوں میں جگہ دی گئی ہے جس کی وجہ سے بہت سے دُشمنانِ اسلام ان روایات پر بنیا درکھ کر اعتراضات کرتے ہیں۔جب بھی ایسی روایت کے بارہ