اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 341
حفاظت قرآن کریم بر متفرق اعتراضات 341 عقیدہ بن جائے گا؟ پس چند متعصب جاہلوں کی رائے کو کسی قوم کی رائے قرار نہیں دیا جاسکتا۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ایسی روایات تاریخ کی کتب میں کیوں ملتی ہیں؟ تو اہل علم جانتے ہیں کہ اہل اسلام نے اپنے دور میں دشمنانِ اسلام کی طرف سے پھیلائی جانے والی افواہوں وغیرہ کو بھی انتہائی دیانت داری کے ساتھ تاریخی امانت سمجھ کر دنیا کے سپرد کیا ہے اور جیسی روایات بھی منافقوں یا غیر مسلموں کی طرف سے پھیلائی جارہی تھیں ان کو بعینہ درج کرنا اپنی ذمہ داری سمجھا۔ہاں ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتے چلے گئے کہ یہ روایات غلط ہیں اور ان کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔صرف آئندہ زمانہ کے لوگوں کے علم کے لیے یہ خبریں آگے منتقل کی جار ہیں تا کہ انہیں علم ہو کہ ہر زمانہ میں دشمن زور لگا تارہا ہے مگر اپنے مزموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوا۔یہ رائے صرف ہماری ہی نہیں بلکہ دیانت دار مستشرقین بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں۔چنانچہ مشہور رومن کیتھولک بن اور مشرقی علوم کی ماہر کیرم آرمسٹرانگ اسلامی تاریخ کے ابتدائی مآخذ اور مشہور مسلمان مؤرخین ابن الحق ، ابن سعد ، طبری اور واقدی کے بارہ میں مھتی ہیں: یہ چاروں بہت معتبر مؤرخ اور سوانح نگار ہیں۔ان سوانح نگاروں کے ہاں آپ کو محض ان کے خیالات اور معتقدات ہی نہیں ملتے بلکہ حقائق کو تلاش کرنے کی محققانہ کاوش بھی دکھائی دیتی ہے۔مثلاً انہوں نے تمام ابتدائی اور بنیادی دستاویزات کو پڑھا، سینہ بسینہ چلی آرہی روایات و حکایات کو سنا اور اس کے باوجود کہ وہ سچے مسلمان تھے اور نبی کریم ﷺ کی ذات مبارک سے گہری عقیدت رکھتے تھے، تاریخ لکھتے ہوئے کم ہی دکھائی دیتا ہے کہ وہ کسی معاملے میں جانب دار ہوئے ہوں۔۔۔۔ان سوانح عمریوں کی درستگی پر اعتبار کرتے ہوئے ہم یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ان کی بنیاد پر ہم نبی (ع) کی حیات مبارکہ کا ایک زیادہ حقیقت پسندانہ اور سچا خا کہ حاصل کر سکتے ہیں۔ان مؤرخین کے انداز تحقیق و تحریر سے ظاہر ہے کہ وہ اس موضوع پر کام کرنے والے دیگر جدید مغربی مؤرخین سے بے حد مختلف ہیں۔وہ اپنے عہد اور معتقدات کے ساتھ جڑے ہوئے لوگ تھے۔اپنی کتب میں انہوں نے بہت سے غیر معمولی اور کافی حد تک ایسے نا قابل یقین واقعات بھی شامل کیے ہیں جنہیں ہم آج بہت مختلف انداز میں بیان کریں گے۔لیکن وہ معاملات کی پیچیدگی اور سچائی کی باریک اور مہم نوعیت سے کماحقہ آگاہ تھے۔وہ کسی ایک نظریہ کی بنیاد پر کسی دوسرے نظریہ کو ثابت یا واقعہ کی وضاحت نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات وہ مختلف طریقہ کار اختیار کرتے ہیں۔وہ ایک ہی روایت کی ایک سے زیادہ معروف صورتیں پیش کر دیتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کی درستگی کے بارے میں کوئی رائے نہیں دیتے اور نہ اس ضمن میں قارئین کی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ ہم آج انہیں کن معیارات پر پرکھیں۔