اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 340 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 340

الذكر المحفوظ 340 کوئی تبدیلی ممکن ہے اور نہ کوئی تحریف اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ مشرکوں کے منصوبوں کے مقابل پر ہم اس کی حفاظت کریں گے اور ان کے لیے اس کا ابطال ممکن نہیں رہے گا اور نہ یہ پس پشت ڈالی جائے گی اور نہ ہی بھلائی جائے گی۔پھر علامہ مجلسی قرآن کریم کی آیت سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسى إِلَّا مَا شَاءَ اللہ کے بارہ میں شیعہ عقیدہ کی یوں وضاحت کرتے ہیں: اما قوله " إِلَّا مَا شَاءَ الله ، ففيه احتمالان - احدهما ان يقال هذه الاستثناء 66 غير حاصل في الحقيقة و أنه لم ينس بعد نزول“ (بحار الانوار جزء ۱۷ صفحه ۹۷ باب ١٦ سهوه و نومه عن الصلواۃ ایڈیشن ٤ مكتبه مؤسسة الوفاء بيروت لبنان ٥١٤٠٤ بمطابق (1983) یعنی جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس قول إِلَّا مَا شَاءَ اللہ “ کا تعلق ہے تو اس میں دو احتمال ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ استثناء غیر حاصل ہے اور در حقیقت قرآن کریم نزول کے بعد کبھی نہیں بھلایا گیا۔پھر علامہ بیضاوی کا موقف بھی اپنے مؤقف کی تائد میں بیان کرتے ہیں: وقيل المراد به القلة أو نفى النسيان رأسا (بحار الانوار جزء ۱۸ صفحه ۱٧٤ باب : ۱ ، المبعث و اظهار الدعوه و ما لقى من القوم۔۔۔ایڈیشن ٤ مكتبه مؤسسة الوفاء بيروت لبنان ٥١٤٠٤ بمطابق 1983) یعنی اس کے مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس سے گھولنے کی قلت یا کلیپ نفی مراد ہے۔پس اتنی واضح شہادتوں کی موجودگی میں یہ کہنا کہ اہل تشیع کا یہ عقیدہ ہے کہ کہ قرآن کریم میں تحریف ہوئی ہے ایک واضح جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے؟ شیعہ عالم ملا فتح اللہ کا شانی سچ کہتے ہیں کہ: هر کس بما شیعه نسبت زهد که میگوئیم از قرآن چیزی نقصان یافته دروغ میگوید و ما هرگز چنین سخن نگوئیم لافتح اللہ کاشانی بنج الصادقین مقدمة الكتاب صفحہ 15) وہ سب لوگ جو شیعہ فرقہ کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں کوئی کمی ہوگئی ہے وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ہم ہرگز ایسی بات نہیں کہتے۔ایسا جھوٹ تو کوئی بھی گھڑ سکتا ہے۔ابن وراق بھی شیعہ فرقہ سے تعلق کا دعویٰ کرتا ہے۔اگر کوئی ابن وراق کی جہالت کے حوالہ سے ہی یہ اعتراض کرنا شروع کر دے کہ شیعہ نہ اسلام کو سچا مانتے ہیں نہ قرآن کو کلام الہی تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خدا کا رسول سمجھتے ہیں۔تو کیا یہ ہرزہ سرائی شیعہ فرقہ کا