اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 339 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 339

حفاظت قرآن کریم پر متفرق اعتراضات 339 حروف اور آیات کے فرق تک انہوں نے محفوظ رکھے۔اس لیے کیوں کر خیال کیا جاسکتا ہے کہ اس قدر راحتیاط کے ہوتے ہوئے اس میں کسی قسم کی تغیر یا کمی راہ پا جائے؟ حضرت علی کے بارہ میں یہ ذکر گزر چکا ہے کہ حضرت ابوبکر کے دور میں جمع قرآن پر آپ کو کسی قسم کا کوئی اعتراض نہ تھا۔حضرت عثمان کی خدمت قرآن کے بارہ میں تو آپ فرماتے ہیں: لو لم يصنعة لصنعته (كتاب المصاحف الجزء الاول صفحه 12) یعنی اگر عثمان یہ کام نہ کرتے تو میں یہ خدمت سر انجام دیتا۔آپ کا یہ قول اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت عثمان نے جب اس نسخہ قرآن کو شائع کیا تو آپ اس وقت بھی متفق تھے اور بعد میں اپنے دور خلافت میں بھی حضرت علیؓ کا اسی قرآن کریم پر انحصار کرتے رہنا اور اسے ہی حجت کے طور پر پیش کرنا ایک ناقابل تردید تاریخی ثبوت ہے۔(نہج البلاغہ خطبہ 125 ) چونکہ بات اہل تشیع کے حوالہ سے ہورہی ہے اس لیے شیعوں کی مستند کتاب نہج البلاغہ میں حضرت علی کے خطبہ نمبر 18 اور خطبہ نمبر 127 کا مطالعہ فائدہ مند رہے گا۔ان خطبات میں حضرت علی نے حضرت عثمان کی خدمت قرآن پر اپنی رضامندی، خوشنودی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اُمت کو اسی قرآن پر قائم رہنے کی نصیحت فرمائی ہے۔علامہ الطبرسی اپنی تحقیق پیش کرنے کے بعد اپنی تائید میں ایک اور عالم کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں : و كذالك القول في كتاب المزني۔۔۔۔۔ان القرآن كان على عهد رسول الله مجموعا مؤلفا على ما هو عليه الآن (مجمع البيان الجزء الاول : الفن الخامس صفحه 15 : مكتبه علميه الاسلاميه ملتان) علامہ مزنی نے اپنی کتاب میں یہی بیان فرمایا ہے۔۔۔کہ قر آن رسول کریم کے دور میں ہی جمع ہو گیا تھا اور اسی طرح تالیف ہو گیا تھا جیسا کہ آج کے دور میں ہے۔اہل تشیع میں بہت قدر و منزلت کی حامل معروف شیعہ تفسیر بحارالانوار میں لکھا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ - (الحجر: 10 ) عن الزيادة و النقصان و التغير و التحريف وقيل نحفظه من كيد المشركين فلا يمكنهم ابطاله ولا يندرس و ينسى (علامة مجلسى بحار الانوار؛ مؤسسة الوفاء ؛ بيروت لبنان ایڈیشن 4(1983) جزء ۹ صفحه 113 باب احتجاج الله تعالى على ارباب الملل المختلفة في القرآن الكريم ) یعنی آیت إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ۔(الحجر: 10) کا مطلب ہے کہ ہم اس کتاب کی حفاظت کریں گے۔پس اس میں نہ تو کسی قسم کا کوئی اضافہ ممکن ہے نہ کوئی کمی۔نہ