اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 332 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 332

الذكر المحفوظ 332 بندوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور خدا کے بندوں کے تقویٰ اور شرافت کو دیکھ کر بھی بجائے پر نادم ہونے کے، دل میں ٹھان لیتے ہیں کہ اس شخص کی نیکی اور تقویٰ کو زک پہنچا کر رہنا ہے اور اس کے لیے بچی بنیاد تو کوئی ملتی نہیں پس جھوٹ اور فریب اور دھوکہ دہی سے کوشش کرتے ہیں۔ایسی صورتِ حال سے اگر کوئی شخص دو چار ہو جائے تو سوائے اللہ کے کوئی ہستی ایسی نہیں جو انسان کی حفاظت کر سکے اور اللہ حفاظت کرتا بھی ہے۔پس بیان بھی قاری کے سامنے ہے اور اس سے ظاہر ہونے والی تعلیم بھی۔یہ بیان پڑھ کرکس کے جذبات میں ہیجان پیدا ہوا ہے؟ آج نام نہاد مہذب مغرب نیز دُنیا کے دیگر ممالک میں لوگ کیا سورت یوسف پڑھ پڑھ کر ان کرتوتوں میں مبتلا ہوتے ہیں جن کا ذکر کرنا ہی ایک باغیرت اور باحیا معاشرہ میں معیوب سمجھا جاتا ہے؟ مہذب ثقافتوں کے نام پر یورپ اور امریکہ کی عریاں کثافتیں کسی تعلیم کا ثمرہ ہیں؟ آج کی مہذب دنیا میں پھیلی بے غیرتی اور بے حیائی کس تعلیم کا نتیجہ ہے؟ حز قیل باب 23 کی تعلیم کا؟ کون سا نام نہاد مسلمان ہے جو یورپ کے گھر گھر پائی جانے والی دیوثی جیسی دیوٹی کا مرتکب ہونے کے لیے سورت یوسف کا حوالہ دیتا ہے؟ اس پاکیزہ تعلیم کے مطالعہ سے تو انسان خدا تعالیٰ کے اور قریب ہوتا ہے اور خدا کی محبت اور نیکی کی محبت اور تقویٰ میں ترقی کرتا ہے۔یہ ساری سورت حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے واقعات سے تعلق رکھتی ہے۔مثلاً آپ کے ساتھ جو دو قیدی تھے ان دونوں کی رؤیا کی حضرت یوسف نے ایسی تعبیر فرمائی جو بعینہ پوری ہوئی اور اسی وجہ سے وہ قیدی جس کے بچنے کی خوشخبری دی گئی تھی ، ذریعہ بن گیا کہ بادشاہ کی اس رؤیا کے متعلق حضرت یوسٹ سے تعبیر طلب کرتا جس کو درباری علما نے محض نفس کے خیالات سے تعبیر کیا تھا اور حضرت یوسف کی تعبیر ہی کے عین مطابق یہ عظیم الشان واقعہ ہوا کہ مصر اور اس کے اردگرد ایسے غربا جنہوں نے یقینا فاقوں سے مر جانا تھا فاقہ کشی کے عذاب سے بچائے گئے اور مسلسل سات برس تک ان کو غذا مہیا کی گئی اور اس انتظام کے نگران خود حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام بنائے گئے اور اسی وجہ سے بالآخر آپ کے والدین اور بھائیوں کو آپ ہی کی پناہ میں آنا پڑا اور وہ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو گئے۔یہ تاریخ کے ایسے واقعات ہیں جن کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی صورت ذاتی علم نہیں ہو سکتا تھا اس لیے فرمایا کہ تو ان لوگوں میں موجود نہیں تھا جب یہ سب کچھ رونما ہو رہا تھا۔یہ محض ایک علیم وخبیر اللہ ہی ہے جو تجھے ان واقعات کی حقیقت سے آگاہ فرما رہا ہے۔غالبا سورت یوسف میں بیان فرمودہ اس واقعہ پر ابن وراق اپنے اعتراض کی بنیاد رکھ رہا ہے جس میں حضرت یوسف علیہ السلام کو ایک عورت نے آپ کی مرضی کے خلاف ایک ناجائز فعل میں الجھانا چاہا۔مگر سارا واقعہ پڑھ جائیں تو روح آستانہ الوہیت پر سجدہ ریز ہوتی ہے کجا یہ کہ جذباتی ہیجان پیدا ہو۔جب کہ بائیل میں