اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 330
الذكر المحفوظ 330 اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں جس میں سے پرندے کھا رہے ہیں۔ہمیں ان کی تعبیر سے مطلع کر۔یقیناً ہم تجھے احسان کرنے والے لوگوں میں سے دیکھ رہے ہیں۔۳۸۔اس نے کہا کہ تم دونوں تک وہ کھانا نہیں آئے گا جو تمہیں دیا جاتا ہے مگر میں تمہارے پاس اُس کے آنے سے پہلے ہی ان (خوابوں) کی تعبیر سے تم دونوں کو مطلع کر چکا ہوں گا۔یہ ( تعبیر ) اس (علم) میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا۔یقیناً میں اس قوم کے مسلک کو چھوڑ بیٹھا ہوں جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے تھے اور وہ آخرت کا انکار کرتے تھے۔۳۹۔اور میں نے اپنے آباء و اجداد ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے دین کی پیروی کی۔ہمارے لیے ممکن نہ تھا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے۔یہ اللہ کے فضل ہی سے تھا جو اس نے ہم پر اور (مومن) انسانوں پر کیا لیکن اکثر انسان شکر نہیں کرتے۔۴۰۔اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! کیا کئی مختلف رب بہتر ہیں یا ایک صاحب جبروت الله ؟ ۴۱ تم اُس کے سوا عبادت نہیں کرتے مگر ایسے ناموں کی جو تم نے اور تمہارے آباء واجداد نے خود ہی اُن (فرضی خداؤں) کو دے رکھے ہیں جن کی تائید میں اللہ نے کوئی غالب آنے والی برہان نہیں اتاری۔فیصلے کا اختیار اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا تم کسی کی عبادت نہ کرو۔یہ قائم رہنے والا اور قائم رکھنے والا دین ہے لیکن اکثر انسان نہیں جانتے۔۴۲۔اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو! جہاں تک تم دونوں میں سے ایک کا تعلق ہے تو وہ اپنے آقا کو شراب پلائے گا اور جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے تو وہ سُولی پر چڑھایا جائے گا پس پرندے اس کے سر میں سے کچھ ( نوچ نوچ کر ) کھائیں گے۔اُس بات کا فیصلہ سنادیا گیا ہے جس کے بارہ میں تم دونوں استفسار کر رہے تھے۔۴۳۔اور اس نے اُس شخص سے جس کے متعلق خیال کیا تھا کہ ان دونوں میں سے وہ بچ جائے گا کہا کہ اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا مگر شیطان نے اُسے بھلا دیا کہ اپنے آقا کے پاس ( یہ ) ذکر کرے۔پس وہ چند سال تک قید خانہ میں پڑا رہا۔۴۴۔اور بادشاہ نے ( دربار میں ) بیان کیا کہ میں سات موٹی گائیں دیکھتا ہوں جنہیں سات دُبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سرسبز بالیاں اور کچھ دوسری سوکھی ہوئی بھی (دیکھتا ہوں)۔اے سردارو! مجھے میری رؤیا کے بارہ میں تعبیر سمجھا ؤ اگر تم خوابوں کی تعبیر کر سکتے ہو۔۴۵۔انہوں نے کہا یہ پراگندہ خیالات پر مشتمل نفسانی خواہیں ہیں اور ہم نفسانی خوابوں کی تعبیر کا علم نہیں رکھتے۔۴۶۔اور اس شخص نے جوان دونوں ( قیدیوں) میں سے بچ گیا تھا اور ایک طویل مدت کے بعد اس نے (یوسف کو ) یاد کیا،