اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 322 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 322

322 الذكر المحفوظ اور تبھی تو یہ اعتراض اُٹھاتے ہوئے بھی کوئی دلیل پیش نہ کی۔جہاں تک مغربی محققین کا چند آیات پر قلم اٹھانے کا سوال ہے اس بارہ میں عرض ہے کہ مغربی مستشرقین نے ہی قرآن کریم کی حفاظت پر بھی گواہیاں بھی دی ہیں کہ یہ راست راست بلاکم وکاست آج تک محفوظ ہے۔ان گواہیوں کا ذکر گزشتہ سطور میں بھی آتا رہا ہے اور آئندہ بھی آتا رہے گا۔پس سوال یہ ہے کہ جن محققین نے چند آیات کے استناد پر سوال اُٹھایا ہے وہ اپنے اس دعوی کی صداقت کا ثبوت کیا دیتے ہیں؟ کسی کی محض ہرزہ سرائی تو قابل توجہ نہیں ہوسکتی۔ان نام نہاد محققین نے ایک زمانہ تک محض تنگ نظری، تعصب اور اسلام دشمنی کو بنیاد بناتے ہوئے اسلام اور بانی اسلام پر گندے اور گھناؤنے اور بلا دلیل و ثبوت اعتراضات کی بوچھاڑ جاری رکھی۔ان کی مت اس قدر ماری گئی کہ اس حقیقت کو کلیۂ فراموش کر بیٹھے کہ حقائق اور زمان و مکاں ان کے گھٹیا اور لچر تصورات کے پابند نہیں۔چنانچہ جوں جوں یورپ جہالت کے اندھیروں سے باہر نکلنا شروع ہوا توں توں مستشرقین کے سنجیدہ طبقہ کے حقیقت پسندانہ مطالعہ نے رفتہ رفتہ ان لغویات کو مستر د کرنا شروع کیا۔آہستہ آہستہ اور گھٹے گھٹے انداز میں یہ لوگ کبھی کبھی پادریوں اور نام نہاد مستشرق محققین کے دجل وفریب کا ذکر بھی کر دیتے اور اس رویہ پر ندامت کا اظہار اور معذرت خواہانہ رویہ اختیار کر لیتے۔پھر ان میں کچھ ایسے لوگ سامنے آئے جنہوں نے کھلم کھلا کہنا شروع کیا کہ مغربی محقق تعصب اور اسلام دشمنی میں علمی تحقیق کے نام پر دلوں کی کی سیاہی سے جو صفحات کالے کرتے رہے ہیں اور جس قبیح اور شرمناک علمی اور تاریخی بددیانتی کے مرتکب ہوتے رہے ہیں یہ اب ان کے گلے کو طوق بن چکا ہے اور ہمیشہ ” مہذب مغرب کے لیے باعث عار اور باعث شرم رہے گا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ لوگ اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کے قائل تھے۔ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ ننگے اور عریاں جھوٹ سے پر ہیز کیا جائے اور اسلامی تعلیم کا مطالعہ کر کے اس کا مقابلہ کیا جائے نہ کہ اپنے دماغ کے گند سے نت نئے فلسفے اور قصے تخلیق کر کے اسلام کی طرف منسوب کیے جائیں۔چنانچہ علمی تحقیق کے نام پر ان مستشرقین نے بھی اسی روایتی تعصب سے خوب کھل کر کام لیا۔ابن وراق کے مددگار نام نہاد متقین کے بارہ میں تو خود مغرب کے دیانت دار محقق کہتے ہیں کہ محض اسلام دشمنی اور تعصب میں اسلام اور بانی اسلام اور قرآن کریم کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن کا حقائق سے کوئی دُور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔کیرم آرمسٹرانگ جیفری لینگ اور ایڈور ڈھیڈ کی تحقیق کا ذکر اس ضمن میں گزرا۔ٹامس کارلائل کی گواہی بھی سُن لیجیے : Our current hypothesis about Mahomet, that he was a scheming Imposter, a Falsehood incarnate, that his religion is a mere mass of quackery and fatuity, begins really to be now untenable to any one۔The lies, which