اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 320 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 320

الذكر المحفوظ 320 ساتھ جمالی انداز میں لطیف پیرایہ میں بیان کرتا ہے اور کہیں مخالفین کے شور وشر پر انتہائی جلال کے ساتھ بیان کرتا ہے۔مثلاً ایک جگہ فرماتا ہے: إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ الله طَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمُ (الفتح: 11) جولوگ تیری بیعت کرتے ہیں وہ صرف اللہ کی بیعت کرتے ہیں۔اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ایک دوسری جگہ جلالی رنگ میں اس قربت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى (الانفال : 18) اور جب تو نے پتھر پھینکے تھے تو تو نے نہیں پھینکے تھے بلکہ اللہ نے پھینکے تھے۔۔گرد و پایش موجود سب صحابہ اور مخالفین جانتے تھے کہ آپ کی نے روت رضوان لی تھی اور آپ ہی نے بدر کے موقع پر کفار کی طرف کنکر پھینکے تھے۔عام ادبی تحریر میں جب کوئی مصنف کسی فرضی کردار کی بابت ایسا رویہ اپنا تا ہے تو ہرگز اس کی مراد کوئی حقیقت بیان کرنا نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک ادبی انداز کی تقلید کرتا ہے جو کہ ایک خوبصورت انداز ہے بلکہ بعض دفعہ تو اس خوبصورتی کو اپناتے ہوئے حقیقت سے بھی دور چلا جاتا ہے۔مثلاً جب کوئی مصنف کسی بے جان کردار کی زبان میں بات کرتا ہے تو کیا پڑھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ بے جان چیز سے اپنی محبت کا اظہار کر رہا ہے یا بے جان چیز اس کے اس انداز سے واقعۂ بولنے لگے گی۔صرف ایک انداز ہے جو پڑھنے والوں کو اچھا لگتا ہے۔قرآن کریم کی اضافی خوبی یہ ہے کہ اس انداز کو اس طرح اختیار کرتا ہے کہ مضامین میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح قرآن کریم انبیاء کے مخالفین کے اقوال بھی بیان کرتا ہے۔اب کیا ابن وراق کی موٹی عقل یہ فتویٰ دے گی کہ جہاں فرعون کا قول بیان کیا ہے وہاں خدا تعالیٰ نہیں بلکہ فرعون نے قرآن کے نزول سے چودہ صدیاں پہلے یہ آیت قرآن کریم میں داخل کر دی تھی ؟ یا جہاں انبیاء کے اقوال کا حوالہ دیا ہے وہاں انبیاء نے خود اپنی طرف سے قرآن کریم میں وہ آیت داخل کر دی ہے؟ پس یہ حسن کلام کا ایک شہرکار نمونہ ہے نہ کہ جائے اعتراض۔قاری دیکھ لے کہ قرآن کریم کے انداز پر اعتراض کرنے والا یہ معترض ” ابن وراق“ اس معروف ادبی انداز کو بھی نہیں سمجھ سکا۔قرآن کا سٹائل کیا سمجھے گا۔