اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 319
حفاظت قرآن کریم پر متفرق اعتراضات دنیا کے منکر مل کر اگر مثل بنا سکتے ہیں تو بنا کر دکھا ئیں۔319 پس جن آیات کے بارہ میں بلا دلیل صرف یہ کہتا ہے کہ یہ الفاظ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں تو اس کے جواب میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ رسول کریم کا دعویٰ موجود ہے کہ یہ الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن پر نازل کیے گئے ہیں۔پس یہ الفاظ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نہیں ہیں اور اس کے ثبوت میں گزشتہ صفحات میں دلائل درج کیسے جاچکے ہیں کہ کوئی عقلی یا فقلی شہادت اس بات پر نہیں کہ یہ کلام رسول کریم کا ہے اللہ کا نہیں۔مثلاً ابن وراق یہ آیت پیش کرتا ہے وَمَا أَنَا عَلَيْكُمُ بِحَفِيظ ( سورۃ الانعام آیت 105 ) اور کہتا ہے کہ اس میں محمد (ﷺ) مخاطب ہیں۔ایک طرف رسول کریم فرماتے ہیں کہ یہ کلام میرا نہیں اور خدا تعالیٰ بھی یہ گواہی دیتا ہے کہ قرآن کریم میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور دوسری طرف یہ انداز ملتا ہے اور عربی جاننے والے اور عربی زبان کی باریکیوں سے واقف اور شعر پنشن میں کمال رکھنے والے ہمعصر مخالفین اعتراض نہیں کرتے کہ یہ حصہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے ڈالا ہے کیونکہ اس میں بظاہر آپ مخاطب ہیں اور نہ ہی آپ پر ایمان لانے والے اہل زبان یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک طرف تو خدا کا کلام ہونے کا دعوی ہے اور دوسری طرف یہ انداز بیان؟ پس یہ تو کوئی دلیل نہیں کہ فلاں آیت میں رسول کریم مخاطب ہیں۔کیونکہ صرف قرآن مجید میں ہی نہیں بلکہ ساری دُنیا کے ادب پاروں میں بارہا یہ انداز اپنایا گیا ہے۔پس ابن وراق کو یہ خوبصورت رنگ بھی نظر نہیں آیا ، یا وہ اس حقیقت سے بھی اعراض کر گیا ہے کہ یہ ایک اعلیٰ درجہ کا ادبی انداز ہے۔بہت سے ادبانے اس کی تقلید کی ہے اور بے شمار مثالیں ملتی ہیں کہ مصنف کسی خیالی کردار کی طرف سے بات کر رہا ہوتا ہے بلکہ ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ مصنف ایسے کردار کی طرف سے بات کرتا ہے جو کہ حقیقی زندگی میں ہوتا ہی نہیں یا اگر ہو بھی تو بے جان ہوتا ہے۔اس لحاظ سے عام سی بات کو خوبصورت پیرائے میں جو کہ قاری کی دلچسپی کا موجب ہوتا ہے بیان کیا جاتا ہے۔قرآن کریم اس انداز کو اپناتا ہے اور بہت اعلیٰ انداز میں اپنا تا ہے۔ایک فرضی واقعہ یا صرف الفاظ کی تک بندی نہیں بلکہ ایک حقیقت بیان کرتا ہے۔علاوہ ازیں اس بیان میں اور بھی بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔مثلاً یہ کہ اس انداز بیان کو اپناتے ہوئے کلام کے تحت السطور اللہ تعالیٰ مخالفین کو یہ مضمون بھی سمجھاتا ہے کہ اس رسول (ﷺ) کا اس کلام کہنے والے سے ایک قریبی تعلق ہے اور اس کا اظہار یہ ہے کہ خدا تعالیٰ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف اس انداز میں جواب دیتا ہے کہ گویا آپ مخالفین سے گفتگو کر رہے ہیں۔اس طرح خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان اور اپنی زبان کو گویا ایک ہی قرار دے رہا ہے۔یہ تو انتہائی قربت اور پیار کا لطیف اظہار ہے۔کہیں اللہ تعالیٰ محبت اور پیار کے اس تعلق کو اپنے اور محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آپس کے تعلق کے حوالہ سے انتہائی محبت کے الله