اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 318 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 318

الذكر المحفوظ 318 اس لیے ہم اس اعتراض کے جواب میں یہی سوال دہراتے ہیں کہ اگر تم سچ بول رہے ہو اور علی وجہ البصیرت بات کر رہے ہو تو اس کا کیا ثبوت ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ یہ کلام میرا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہے اور ثبوت یہ ہے میں نے آج تک کسی ادنیٰ سے ادنی معاملہ میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔خدا پر کیسے بول سکتا ہوں؟ اب جب ایک شخص کہتا ہے کہ یہ کلام میرا نہیں ہے بلکہ خدا کا ہے اور پھر کوئی دوسرا دعویدار بھی موجود نہیں کہ یہ کلام اس کا ہے اور نہ ہی کبھی کسی نے کسی دوسرے شخص کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ کلام بناتے ہوئے دیکھا ہے۔رسول کریم کی طرز کلام بھی قرآن کریم کی طرز کلام سے بالکل مختلف ہے۔پھر مقابلہ میں کلامِ الہی کی مثل نہ لا سکنے کا چیلنج پندرہ سو سال سے مخالفین کامنہ کالا کر رہا ہے۔پھر قرآن کریم ایسے مضامین پر مشتمل ہے جو انسانی طاقت سے بالا ہیں، ایسی پیشگوئیاں ہیں جو صرف خدا کی طرف سے ہوسکتی ہیں اور ایسی تاثیر ہے جوصرف البی کلام میں ہوسکتی ہے تو پھر لازماً اسے خدا تعالیٰ کا کلام ماننا پڑے گا اور اگر ایسا دعویٰ کرنے والے محمد الصدوق الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہوں تو پھر قانون شہادت کی رو سے ما نالازم ہو جاتا ہے کہ یہ کلام خدا تعالیٰ کا ہی ہے۔مزید برآں یہ کہ تاریخی دلائل اور عقلی اور نفلی ثبوت تمام تر اسی بات پر متفق ہیں۔اگر پھر بھی تسلیم نہیں تو قرآن کریم بار بار فیصلہ کے لیے بلا تا ہے کہ مال بنا کر پیش کرتا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی اصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اعتراض کرنا سہل ترین کام ہے جو کوئی شخص اپنے مد مقابل کے خلاف کر سکتا ہے۔صداقت کے منکر ہمیشہ اعتراضوں تک ہی اپنے حملہ کو محدود رکھتے ہیں کبھی کوئی ٹھوس کام مقابل پر نہیں کرتے جس سے ان کے جو ہر بھی ظاہر ہوں اور ان کے اعتراض کی حقیقت بھی ظاہر ہو۔یہی حال قرآن کریم کے منکروں کا تھا۔وہ قرآن کریم پر اعتراض تو کرتے تھے لیکن اس کے مقابل پر کوئی تعلیم ایسی پیش نہیں کرتے تھے جو اس سے برتر تو الگ رہی اس کے برابر بھی ہو۔آج تک قرآن کریم کے مخالفوں کا یہی حال رہا ہے۔مسیحی مصنف قرآن کریم پر اعتراض کرتے چلے 66 جاتے ہیں لیکن آج تک اس مطالبہ کے پورا کرنے کی جرأت نہیں کر سکے۔“ ( تفسیر کبیر جلد اول صفحہ 226 زیرتفسير آيت البقرة: 25, 24، کالم :1) ابن وراق کی حالت تو ایسی ہے جیسے کوئی شخص Colour Blind ہو ، اور کسی مصوّر کی شاہکار تصویر میں رنگوں کی خوبصورت جلوہ گری نہ دیکھ سکے کیونکہ اپنی معذوری کی وجہ سے اسے تو وہ رنگ دھبے ہی نظر آتے ہیں۔اس میں مصور کا تو کوئی قصور نہیں۔ایک آنکھوں والا تو رحیم ہی کھا سکتا ہے کہ یہ بے چارہ جلو ہ حسن کے نظارہ سے ہی محروم ہے۔پھر اگر کسی کو اُس ذات کامل کا حسن نظر نہ آئے تو اس کی بیچارگی کی کیا حد ہو سکتی ہے ! ہاں یہ چیلنج عام ہے کہ ساری