اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 317 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 317

حفاظت قرآن کریم پر متفرق اعتراضات 317 ان مستشرقین کی یہ گری ہوئی اخلاقی حالت اور ادنی ادنی معاملات میں دجل اور فریب اور دھوکہ دینے کی عادت بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ سے ان کا کوئی دُور کا بھی تعلق نہیں۔یہ اعتراضات ان کے دماغ کی اختراع ہیں۔نہ تو یہ لوگ عربی زبان کے ایسے ماہر ہوتے ہیں کہ عربی اسالیب کو سمجھ سکیں ، نہ ہی ملہم من اللہ ہونے کے دعویدار ہیں کہ خدا تعالیٰ کے کلام کے انداز سے واقفیت کا دعوی کر سکیں اور نہ ہی ان کی مسلّمہ کتب جن پر یہ ایمان کے دعویدار ہیں اس درجہ استناد کو پہنچتی ہیں کہ ان کے بارہ میں یقین سے کہا جاسکے کہ اُن کے کثرتِ مطالعہ سے الہی کلام کے اسلوب بیان کے فہم اور عرفان کا دعوی کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسلام کے سوا کسی اور مذہب کی کتاب کا مطالعہ الہی کلام کا عرفان پیدا کر سکتا ہے کیونکہ فی زمانہ اب یہ ناممکن ہو چکا ہے۔وہ کتب بھی انسانی دست برد کا شکار ہو چکی ہیں۔پس ایک سوال یہ بھی ہے کہ قطع نظر اس بات کے کہ حفاظت قرآن کے بارہ میں تاریخ کیا کہتی ہے، مغربی محققین کو آیا یہ حق بھی پہنچتا ہے کہ وہ یہ بات کریں کہ فلاں فلاں آیت بعد میں ڈالی گئی ہے کیونکہ اس کا انداز باقی سورۃ سے مختلف ہے یا اس کا ربط باقی سورۃ یا مضمون سے نہیں بنتا؟ کیا مستشرقین کو اتنی صلاحیت حاصل بھی ہے کہ وہ عربی عبارتوں کو اس طرح سمجھ سکیں جس طرح کہ اہل زبان عربوں نے ان پر تحقیقات کی ہیں؟ مستشرقین کا ایک استاد مارگولیتھ ، عربی کا پروفیسر ، اور بزعم خود عربی ” سٹائل کو سمجھنے والا عربی میں گفتگو کرنے کے چیلنج پر کچھ ہی دیر میں عاجز آ گیا ( تفسیر کبیر جلد 10 صفحه 78 ز يرتفسیر القريش) پس ایک طرف عربی زبان سے ناواقفیت اور دوسری طرف یہ کہنا کہ یہ کلام خدا کا نہیں محمد (ﷺ) کا ہے کیونکہ اس کا انداز ایسا ہے جو خدا کا نہیں ہوسکتا، ایک لچر دعوئی اور محض تمسخر ہے کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ دونوں کلام ایک ہستی کے نہیں ہو سکتے۔یہ بزعم خود سٹائل کے ماسٹر اتنا بھی نہیں سمجھ سکے کہ قرآن مجید اور مجموعہ احادیث دو مختلف کلام ہیں جو ایک ہستی کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے۔زبان عربی کے ماہر اور آسمان ادب عربی پر جگمگاتے ستارے بخن فہم اور اسلوب بیان کے شہسوار یہ گواہی دے چکے ہیں کہ قرآن کریم کا انداز انسانی طاقت اور قدرت سے باہر ہے اور یہ کلام انسانی کلام ہو ہی نہیں سکتا اور لازماً کلام الہی ہے۔پس اگر تمہارا اسلوب درست تسلیم کرتے ہوئے محض قیاس اور اندازوں کی بنیاد پر قرآن کریم کے انداز پر اعتراض کی بنیا د رکھی جائے تو ماننا پڑے گا کہ اُس دور میں جبکہ عربی ادب اپنی رفعتوں کو چھورہا تھا، مخالفین میں آسمان ادب کے درخشاں ستارے اور بڑے بڑے سحر بیان سخن ور موجود تھے وہ تو اپنی تمام تر مہارتوں کے باوجود اس حقیقت کو نہ سمجھ سکے۔مگر اسلوب ادب عربی سے ناواقف مستشرقین آج قرآن کریم کے تراجم پڑھ پڑھ کر اس کے اسلوب کو نہ صرف سمجھ گئے بلکہ عربی ادب کی باریکیوں سے واقفیت بھی حاصل کر گئے۔پس مستشرقین اس بات کے حق دار نہیں کہ اپنی جہالت کو بنیاد بنا کر اندازوں اور قیاس کی بنیاد پر حقائق کو جھٹلا سکیں۔