اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 316
الذكر المحفوظ 316 یوں پڑھا قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ تو ہر مسلمان نے سمجھ لیا کہ یہ حکم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے لیے نہ تھا بلکہ میرے لیے بھی تھا کیونکہ میرے سامنے جب وحی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی ہے تو اس کے پہلے قبل کہا ہے جس کا مخاطب میں ہی ہوسکتا ہوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہیں کیونکہ وہ تو پڑھ رہے ہیں سُن تو میں رہا ہوں۔پس اُس نے اس حکم کی تعمیل میں یہ پیغام آگے پہنچا دیا لیکن چونکہ قُل کا لفظ وحی میں تھا اُس نے بھی اگلے شخص کے سامنے اسی طرح پیغام پہنچا دیا کہ قُل لفظ بھی دُہرایا اور اُس تیسرے شخص کے سامنے جب قُل کا لفظ کہا گیا تو اُس نے سمجھ لیا کہ صرف مجھے پیغام نہیں پہنچایا گیا بلکہ مجھ سے یہ بھی خواہش کی گئی ہے کہ میں آگے دوسروں تک یہ پیغام پہنچا دوں۔غرض اس طرح تا قیامت اس حکم کے دہرانے کا انتظام کر دیا گیا ہے۔جب عام قرآنی سورتوں کو انسان پڑھتا ہے تو اُسے وہ حکم پہنچ جاتا ہے جو ان میں ہے مگر جب وہ اس سورت یا آیت کو پڑھتا ہے جس سے پہلے قُل لکھا ہو تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ اسے آگے پہنچاتے چلے جانا میر افرض ہے اور وہ خود عمل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی عمل کی نصیحت کرتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ تم یہ پیغام اپنے بعد کے لوگوں تک اور وہ اپنے بعد کے لوگوں تک پہنچادیں۔اب اس حکمت کو سمجھ لو کہ وہ لوگ کتنے دھو کے میں ہیں جو کہتے ہیں کہ قل کا لفظ وحی میں کیوں رکھا گیا ہے۔آج کل لوگ بے نام کا ر ڈ ڈال کر بھجوا دیتے ہیں اور اُن میں لکھ دیتے ہیں کہ اس خط کا مضمون نقل کر کے دس اور آدمیوں کو بھجوا دو۔کچھ لوگ اس پر عمل کر کے دس اور کو وہ مضمون لکھ کر بھجوا دیتے ہیں اور سارے ملک میں وہ بات پھیل جاتی ہے۔آج کل بہت سی لغو باتوں کے متعلق یہ طریق اختیار کیا جاتا ہے مگر اشاعت کے لیے یہ طریقہ بہت عمدہ ہے بعض قرآنی سورتوں یا آیتوں سے پہلے قُل کا لفظ رکھ کر قرآن نے بھی یہی طریق اختیار کیا ہے اور گویا اس طریق کی ایجاد کا سہرا بھی قرآن کے سر ہے۔( تفسیر کبیر جلد دہم صفحہ 405, 404 زیرتفسیر الکافرون آیت2) پھر ابن وراق یہ بھی اعتراض کرتا ہے کہ فلاں فلاں آیات خدا کا کلام نہیں ہوسکتیں کیوں کہ اُن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مخاطب کر رہے ہیں یا اس لیے خدا کا کلام نہیں ہوسکتیں کیونکہ ان کا سٹائل مختلف ہے یا اس لیے خدا کا کلام نہیں ہوسکتیں کہ اُن کا مضمون یا انداز بیان ایسا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں ہوسکتا۔اس قسم کے اعتراضات اٹھانا ایک دھوکہ اور دجل ہے۔ایک طرف مستند تاریخ ہے اور دوسری طرف جھوٹ کی بنیاد پر گھڑے ہوئے اعتراضات کا پلندہ اور جہاں جھوٹ نہیں بولتا وہاں کوئی دلیل نہ ہونے کی وجہ سے بیہودہ اندازے اور بے ثبوت تخمینے لگا نا شروع کر دیتا ہے۔