اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 299 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 299

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 299 فرماتے تھے انہیں اس فرق سے الگ رکھنا چاہیے جسے حضرت عثمان نے ختم فرمایا۔وہ دراصل تشریحات تھیں جو صحابہ درس و تدریس کے دوران لوگوں کو قرآن کریم کے معانی سکھانے کے لیے کیا کرتے تھے۔صحابہ کی زبان کیونکہ عربی تھی اس لیے لازماً تشریح بھی عربی میں ہی کیا کرتے تھے۔ان تفسیری حواشی کو بھی صحابہ قراءت کا نام ہی دیا کرتے تھے کہ یہ فلاں صحابی کی قراءت ہے اور اس سے مراد یہ ہوتی تھی کہ یہ فلاں صحابی کی تفسیر ہے۔چنانچہ سنن ترمذی ابواب تفسير القرآن عن رسول الله باب ما جاء في الذي يفسر القرآن برایہ میں مجاہد کا قول درج ہے کہ: عن الاعمش قال قال مجاهد لو كنت قرأت قرائة بن مسعود لم احتج الى ان اسأل ابن عباس عن كثير مما سألت (رقم الحديث : 2886) یعنی اعمش کہتے ہیں کہ مجاہد فرمایا کرتے تھے کہ اگر میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی قراءت پڑھی ہوتی تو بہت سی باتیں جو مجھے ابن عباس سے پوچھنا پڑیں نہ پوچھنا پڑتیں۔اس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ قراءت سے تفسیر بھی مراد ہوتی تھی اور صحابہ کا بھی تفسیر میں اختلاف رائے ہوا کرتا تھا۔مستشرقین عدم علم یاد جل کی راہ سے اختلاف کے قراءت کے موضوع پر سوالات اُٹھاتے ہوئے اس تفسیری اختلاف کو بھی پیش کر دیتے ہیں لیکن یہ صرف اُن کی جہالت ہے یا پھر اُن کا دجل جس سے ناواقف انسان دھو کہ کھاتا ہے۔پس یہ معاملہ واضح ہے اور صرف فریبی اور جھوٹا شخص ہی اس سے شبہ پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے اور صرف ناواقف انسان ہی اس سے دھو کہ کھا سکتا ہے ورنہ قرآن کریم کی حفاظت کے بیان میں اختلاف قراءت کا باب کوئی رخنہ نہیں بلکہ ایک اضافی خوبی ہے جو ایک وقت تک قرآن کریم کی حفاظت اور اس کی تعلیم کی اشاعت کے لیے عمومی طور پر استعمال میں لائی گئی اور جب اس کی افادیت سے زیادہ اس کا نقصان محسوس ہونے لگا تو اسے خوبی سے کام لینا چھوڑ دیا گیا۔اہل علم اور محققین خواہ وہ کسی مذہب یا عقیدہ سے تعلق رکھتے ہیں اس بارہ میں کسی قسم کے شک وشبہ میں مبتلا نہیں۔چنانچہ ایک مستشرق John Burton قراءت کے حوالہ سے مفصل بحث کے بعد اپنی تحقیق کے آخر پر لکھتا ہے: "No major differences of doctrines can be constructed on the basis of the parallel readings based on the Uthmanic consonantal outline, yet ascribed to mushafs other than his۔All the rival readings unquestionably represent one and the same text۔They are substantially agreed in what they transmit۔۔۔"1 (John Burton, The Collection of the Qur'an, Cambridge: Cambridge University Press, 1977, p۔171) یعنی ( حضرت ) عثمان کے مصحف کے متوازی مختلف قراءتوں کے چلنے سے اعتقادی طور پر کوئی بڑا اختلاف ممکن نہیں تھا اور تمام دوسری قراء تیں بلا شبہ ایک ہی متن کی نمائندگی کرتی