اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 295
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 295 اور مخالفین بھی اپنے مزموم مقاصد میں اس غلط نہی کو استعمال کر سکتے تھے۔اس طرح مختلف قراء توں کا جو مقصد تھا یعنی آسانی اور کثرت اشاعت، وہ فوت ہو گیا تھا۔اب تک تو حفاظت قرآن کے حوالہ سے صحابہ حساس رویہ دکھاتے مگراب بہت سے عرب ایسے تھے جو نو مسلم ہونے کی وجہ سے اعلیٰ اسلامی اخلاق پر کار بند نہ تھے اور بجائے مقصد کی طرف دیکھنے کے قبائلی عصبیت کی بنا پر اختلاف شروع کر دیتے۔چنانچہ جو کام آسانی کے لیے شروع کیا گیا تھا وہ اپنا مقصد کھو رہا تھا اور مشکل پیدا کر رہا تھا اور ایک سے زیادہ قراء تیں قرآن کریم کے بارہ میں امتِ مسلمہ کے اتفاق اور اتحاد کے لیے خطرہ بن گئی تھیں۔پس اب اختلاف قراءت میں قبیلوں کی لغات کا اختلاف آسانی کا سبب کم بن رہا تھا اور نقصان کا اندیشہ زیادہ تھا۔لوگوں کی توجہ بجائے اس مقصد کے حصول کی طرف ہونے کے، جس کی خاطر قرآن کریم نازل کیا گیا تھا، اختلاف کی طرف ہورہی تھی اس لیے اس اختلاف کو ختم کر دیا اور مرکزی قراءت قریش کی تمام عالم اسلام میں رائج کر دی گئی۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں جو وجہ قراءت کے فرق کو رواج دینے کی بنی اب وہی وجہ اس فرق کو ختم کرنے کی بھی بنی۔یعنی پہلے ہم تعلیم قرآن میں آسانی پیدا کرنے کے لیے اجازت دی گئی اور اب آسانی پیدا کرنے کے لیے یہ اجازت واپس لے لی گئی۔پس حضرت عثمان نے صحابہ کے مشورہ سے یہ فیصلہ فرمایا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ قرآن کریم کے بارہ میں امت کی زبان کو بھی وحدت پر جمع کر دیا جائے۔چنانچہ آپ نے جب مصحف ام کی قراءت واحدہ پر امت کو جمع کرنے کے لیے صحابہ سے رائے لی تو سب نے کہا کہ آپ کی رائے بہترین ہے۔(فتح الباری شرح صحیح بخاری کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن جلد 9) چنانچہ حضرت عثمان نے حضرت حفصہ کے پاس محفوظ مصحف ام ، جو حضرت ابوبکر کے دورِ خلافت میں صحابہ کی گواہی سے جمع کیا گیا تھا اور جس پر تمام امت کو اطمینان تھا، قریش کے طرز تحریر کے مطابق شائع کر دیا۔(بخاری كتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن ) اور اس میں کسی قسم کا تغیر اور تبدل نہیں کیا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ میں قرآن مجید میں ایک حرف کی تبدیلی بھی روا نہیں رکھتا۔(بخاری كتاب التفسيـر بـاب والذين يتوفون و يذرون منكم ازواجاً) آپ نے مصحف ام سے سات صحائف تیار کرائے ایک اپنے پاس رکھا اور باقی چھ نسخے بلا داسلامیہ میں پھیلا دیے اور ان کے ساتھ ایک ایک قاری بھی بھیجا جو ان علاقوں میں ایک انتظام کے تحت لغت قریش کے مطابق قرآن کریم کی تعلیم دیتا۔اس متن کو اب مرکزی سمجھا گیا اور باقی تمام صحائف ایک نظام کی نگرانی میں ضائع کر دیے گئے۔اس وقت سے لے کر آج تک قرآن کریم کے مستند نسخے انہی مصاحف کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں۔حضرت علی فرماتے ہیں: لولم يصنعة لصنعته (كتاب المصاحف الجزء الاول صفحه 12) یعنی اگر حضرت عثمان ایسا نہ کرتے تو پھر میں ایسا کرتا۔