اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 289 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 289

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 289 نہیں کر سکتے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف قراء توں میں قرآن کریم کی تلاوت کی اجازت دے کر ان تمام اختلافات کو مٹا دیا۔اس طرح قرآن کریم ایک عالمگیر کتاب بن گئی جس کو مختلف لہجہ رکھنے والے عرب بھی آسانی سے پڑھ سکتے تھے اور وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ کتاب ہماری زبان میں ہی نازل ہوئی ہے۔اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فاقرؤا ما تيسر منه یعنی جو طریق تم پر آسان ہو اس کے مطابق پڑھو۔اگر ان حروف کے بدلنے یا ز یرز بر کے بدلنے سے معانی میں فرق پڑتا تو آپ یہ کیوں فرماتے کہ جس طریق پر پڑھنا تمہیں آسان ہو، اس طریق پر پڑھ لو۔یہ فقرہ صاف بتاتا ہے کہ قراءتوں کا تعلق صرف تلفظ کے ساتھ ہے معانی کے ساتھ نہیں اور اگر کسی جگہ تلفظ سے کوئی وسعت بھی پیدا ہوتی ہے تو اصل معنوں میں فرق نہیں پڑتا۔اصل حکم وہی رہتا ہے جو قرآن کریم دینا چاہتا ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 414 زيرتفسیر سورۃ الفرقان نوٹ نمبر 1) مندرجہ بالا سطور میں بیان فرمودہ حقائق کو مزید وضاحت کی غرض سے الگ الگ دیکھتے ہیں۔فرق حرکات (اعراب) قراءت کا یہ فرق کبھی صرف زیر زبر کے فرق سے ظاہر ہوتا ہے۔ان حرکات (اعراب) کے تغیر سے معنوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔صرف آسانی کے لیے ہے کہ جس قوم کو جس حرکت سے پڑھنے میں آسانی ہو سکتی ہے وہ اُس سے پڑھ لیتی ہے۔مثلا قریش اور اسد کی زبان میں یائے مضارع کو زبر (-) کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اور چند دیگر قبائل زیر () کے ساتھ پڑھتے ہیں جیسے يَفْعَل کو يَفْعَل۔فرق حروف اختلاف قراءت کی ایک شکل ادائے حروف کے فرق کی صورت میں تھی۔پروفیسر عبدالصمد صارم الازھری اپنی کتاب تاریخ القرآن میں اختلاف قراءت میں ادائے حروف کے اختلاف کے بارہ میں لکھتے ہیں: یہ اختلاف صرف ادائے حروف میں تھا۔اس سے معنی و مطلب پر کچھ اثر نہیں پڑتا تھا۔اہل یمن سکوت سے بدل دیتے تھے۔بجائے ” الناس“ کے ”النات“ بولتے تھے معنی وہی تھے، اور کوش‘ سے بدلتے تھے۔بجائے ” کلام کے غلام بولتے تھے۔قبیلہ ہذیل “ کو ”ع“ سے بدل دیتے تھے اور مٹی کو عشی بولتے تھے۔قبیلہ حمیر لام تعریف کو میم سے بدل دیتے تھے۔بجائے الشمس و القمر کے الشمس