اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 284 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 284

الذكر المحفوظ 284 ہیں اور نہ ہی دیگر صحابہ ان کو متن قرآن کا حصہ سمجھتے تھے۔یہ صرف دعا ئیں تھیں جو آنحضور نے سکھائیں تھیں۔ور نہ ضرور ان سورتوں کو بھی قرآن کریم میں درج کیا جاتا۔اختلاف مصاحف کے ضمن میں ان اتحاد کا فرقوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بڑا اختلاف نہیں تھا۔ایک صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے مختلف تھی مگر انہوں نے بعد میں اپنی غلطی تسلیم کر لی۔دوسرا اختلاف دراصل اختلاف تھا ہی نہیں بلکہ تحریر کی ایک غلطی تھی جس پر کاتب وحی حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اصرار کرنا تو درکنار یہ بھی نہیں کہا کہ یہ میری رائے ہے بلکہ خاموش رہ کر اپنی غلطی تسلیم کر لی۔اسی طرح دوسری دو دعاؤں کے بارہ میں بھی نہ آپ نے اور نہ کسی اور صحابی نے کبھی یہ دعوی کیا کہ یہ بھی متن قرآن کا حصہ ہیں بلکہ حضرت ابی نے تاحیات امت کے متفقہ طرز عمل کے مطابق اپنا نمونہ قائم کیا۔پھر ان دونوں اصحاب کے اختلاف کی کیا اہمیت ہو سکتی جبکہ یہ دونوں اصحاب آپس میں بھی متفق نہ تھے۔نہ حضرت ابی حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے متفق تھے کہ معوذتین اور سورۃ الفاتحہ نسخہ قرآن میں درج نہیں کرنی چاہئیں اور نہ حضرت عبداللہ بن مسعود یہ کہتے تھے کہ حضرت ابی کے نسخہ میں درج دود عا ئیں متن قرآن کا حصہ ہیں۔سورہ فیل اور سورہ قریش کے درمیان بسم اللہ نہ لکھنے پر تو کسی صحابی کو اصرار نہیں تھا، حضرت ابی بن کعب کو بھی نہیں۔یہ اختلاف تو اس وقت بالکل ہی بے حیثیت ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر نے صحابہ کی گواہی لی تھی کہ جو قرآن کریم ان کی نگرانی میں ضبط تحریر میں لایا جارہا ہے وہ وہی ہے جو رسول کریم سے امت نے سیکھا ہے، اس وقت یہ تمام تر مصاحف موجود تھے۔بالخصوص جب ہم دیکھتے ہیں کہ اعلان یہ کیا جارہا تھا کہ وہ صحابہ جنہوں نے رسول کریم سے قرآن کریم حفظ کیا ہو یا جن کے پاس ایسی تحریرات وجی موجود ہوں جو رسول کریم کے زیر نگرانی یا آپ کے حضور پیش کر کے مستند بنائی گئی ہوں تو دو گواہوں کے ساتھ حاضر ہوں۔پس یہ بہت عظیم الشان گواہی تھی کہ وہ سب صحابہ جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے رو برو قرآن کریم لکھایا آپ سے حفظ کیا، یا اپنے حفظ اور تحریر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حضور پیش کر کے اس کی تصدیق کر والی تھی وہ آج پورے اطمینان سے یہ گواہی دے رہے تھے کہ یہ قرآن کریم وہی ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے امت کو دیا ہے۔پس اس وقت حضرت ابی کا یہ دوسورتیں مصحف ام میں درج نہ کروانا اور صحابہ میں سے کسی کا ان دو سورتوں کو پیش نہ کرنا بتا تا ہے کہ یہ سورتیں تھیں ہی نہیں۔حضرت عبد اللہ کا اختلاف اور حضرت ابی کا صحیفہ اسی صورت میں قابل توجہ ہوتا اگر کچھ صحابہ اُن کے حق میں ہوتے اور جس طرح مصحف ام پر صحابہ کا اجماع تھا ان تبدیلیوں کے حق میں کم از کم کچھ صحابہ تو گواہی دیتے۔مگر پورے اطمینان اور خاموشی سے متفق ہو جانا یہ بتاتا ہے کہ صحابہ کو مصحف ام سے کوئی اختلاف نہیں تھا۔