اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 282
الذكر المحفوظ 282 رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ قراءامت ہیں اگر کسی شخص نے قرآن سیکھنا ہو تو ان سے سیکھے۔لیکن جہاں یہ درست ہے وہاں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ابی ابن کعب ویسے ہی غلطی کر سکتے ہیں جیسے کوئی اور شخص غلطی کر سکتا ہے۔ہم اپنے پاس سے ایک مضمون بنا کر وو لکھتے ہیں لیکن اُس میں بھی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔کہیں ” ہے رہ جاتا ہے، کہیں ” کا“ کی جگہ کی لکھا ہوا ہوتا ہے، کہیں کوئی اور غلطی ہو جاتی ہے۔کا تب قرآن کریم لکھتے ہیں تو با وجوداس کے کہ بعض بڑے بڑے مشتاق کا تب ہوتے ہیں پھر بھی اُن سے کئی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔اسی طرح ممکن ہے کسی جگہ پر غلطی سے ابی ابن کعب کو خیال نہ رہا ہو اور وہ ان دونوں سورتوں کے درمیان بسم اللہ لکھنا بھول گئے ہوں۔جبکہ قرآن کریم کا جو نسخہ ہمارے پاس ہے اُس میں ان دونوں سورتوں کو الگ الگ لکھا ہوا ہے اور اُن کے درمیان بسم اللہ بھی لکھا ہوا ہے اور قرآن کریم کا یہ نسخہ ایسا ہے جس کی ترتیب میں صرف ابی ابن کعب نے ہی کام نہیں کیا بلکہ بہت سے اور صحابہ نے بھی جن کا رتبہ قراءت میں حضرت ابی ابن کعب سے کم نہ تھا کام کیا تھا۔چاروں قراء نے مل کر اس میں حصہ لیا ہے اور باقی سارے صحابہؓ نے بھی مل کر حصہ لیا ہے۔جو نسخہ ان ساروں نے مل کر لکھا ہے یہ صاف بات ہے کہ وہ زیادہ احتیاط سے لکھا ہوا ہو گا۔پھر ابی ابن کعب کے نسخہ میں تو غلطی کا امکان ہے کیونکہ کسی نے اُس پر بحث نہیں کی لیکن اس پر بخشیں کی گئی ہیں اور صحابہؓ نے اس کے متعلق اپنی شہادتیں اور گواہیاں دی ہیں۔کوئی سورۃ نہیں لکھی گئی ، کوئی آیت نہیں لکھی گئی ، کوئی زیر اور زبر نہیں لکھی گئی جس کے متعلق دو قسم کی شہادتیں نہیں لی گئیں۔ایک یہ کہ تحریر موجود ہو۔دوسرے یہ کہ زبانی گواہ موجود ہوں جو یہ کہتے ہوں کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سنا ہے۔یہ کتنی بڑی محنت ہے اور کتنی بڑی احتیاط کا ثبوت ہے۔زبانی گواہی کو نہیں مانا گیا جب تک اُس کے ساتھ تحریری شہادت نہ ہوا اور تحریری شہادت کو نہیں مانا گیا جب تک اُس کے ساتھ زبانی گواہ نہ ہوں۔گویا تحریر بھی موجود ہو اور زبانی گواہ بھی موجود ہوں تب کسی سورۃ یا آیت کو قرآن کریم میں شامل کیا جاتا اور یہ زبانی گواہ بھی بعض دفعہ سینکڑوں تک ہوا کرتے تھے صرف ایک دو آیتیں ایسی ہیں جن کے متعلق صرف دو دو گواہ ایسے ملے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ایسا نا ہے۔لیکن باقی ساری آیتیں اور سورتیں ایسی ہیں جن میں کسی کے ہیں کسی کے پچاس اور کسی کے سوگواہ تھے اور بہت سے حصوں کے ہزاروں گواہ موجود تھے۔بہر حال وہ شہادت جو رسول کریم صلی اللہ