اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 278
الذكر المحفوظ 278 اللهُ اَحَدٌ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ اور اس کے بعد دو اور سورتیں جو ہیں یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس یہ دونوں سورتیں سورۃ تنبت اور سورۃ اخلاص کے لیے بطور شرح کے ہیں اور ان دونوں سورتوں میں اس تاریک زمانہ سے خدا کی پناہ مانگی گئی ہے جب کہ لوگ خدا کے میسی کو دکھ دیں گے اور جب کہ عیسائیت کی ضلالت تمام دنیا میں پھیلے گی۔(تحفہ گولڑوی روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 219-217) پس جہاں تک ابن مسعود کا معوذتین کو قرآنی وحی سمجھنے یانہ سمجھنے کا تعلق ہے تو اغلباً آپ معوذتین کو قرآن کریم کے متن کا حصہ اور وحی الہی سمجھتے تھے اور اگر ایسا نہیں ہے تب بھی یہ امر تو واضح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور باقی تمام صحابہ ان دونوں سورتوں کو متن قرآن اور وحی سمجھتے تھے۔یہ بات واضح ہے کہ جب امت کی متفقہ گواہی موجود تھی کہ جو قرآن ابو بکر نے جمع کروایا ہے وہ بعینہ وہی ہے جو امت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا ،لکھا، حفظ کیا اور سیکھا ہے اور ان گواہوں میں حضرت عبد اللہ کے شاگر دبھی شامل تھے۔اس صورت میں ایک شخص کا اختلاف کیا حیثیت رکھتا ہے؟ نیز یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صحابہ میں ممتاز اور عالم قرآن تھے۔کوفہ میں با قاعدہ درسِ قرآن کی ایک یونیورسٹی آپ نے قائم کی ہوئی تھی۔ہزاروں ہزار آپ کے شاگرد تھے مگر ان شاگردوں میں سے کوئی بھی ایسی روایت نہیں کرتا کہ آپ معوذتین کو متن قرآن کا حصہ نہیں سمجھتے تھے۔بلکہ شاگردوں کی جو روایتیں ملتی ہیں ان کے مطابق آپ قرآن کا درس مع معوذتین دیا کرتے تھے۔(بحوالہ ، صدیق حسن خان صاحب: جمع تدوین قرآن مطبع معارف پریس اعظم گڑھ لکھنو : 1964 صفحہ 72) اگر بالفرض ابن مسعودؓ نے ان دوسورتوں کا متن قرآن کا حصہ ہونے کا انکار کیا ہی تھا تو کثرت سے اس کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی اصلح الموعود رضی اللہ عنہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس نظریہ کے بارہ میں فرماتے ہیں: اس کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں۔واقعات کے متعلق دلیل صرف وہی شہادت ہو سکتی ہے جو یا تو نظری ہو یا سماعی یعنی یا تو اس کی شہادت جس نے خود واقعہ دیکھا ہے یا پھر اگر کسی اور کی طرف منسوب کرے تو اس کے الفاظ بیان کرے۔لیکن حضرت عبد اللہ بن مسعود کا یہ بیان نہیں کہ انہوں نے نبی کرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اس طرح سُنا بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ان دونوں سورتوں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ ان کے ساتھ استعاذہ کیا کریں اور چونکہ یہ دونوں سورتیں استعاذہ ہیں۔اسلئے معلوم ہوا کہ قرآن ختم