اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 277
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 277 بن عامر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الم تر آيات أُنزلت الليلة يُر مثلهن قط قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ - (صحیح مسلم کتاب صلاة المسافرين و قصرها باب فضل قرائة المعوذتين) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تجھے علم ہے کہ آج رات ایسی آیات نازل ہوئی ہیں کہ ان جیسی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں یعنی قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔اس مضمون کی ایک حدیث سنن ترمذى فضائل القرآن عن رسول الله باب ما جاء في المعوذتين میں اور ایک حدیث طبرانی نے حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کی روایت سے بیان کی ہے (بحوالہ، صدیق حسن خان صاحب : جمع تدوین قرآن مطبع معارف پریس اعظم گڑھ لکھنو : 1964 صفحہ 72) بخاری میں بھی روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الاخلاص اور معوذتین پڑھ کر سوتے تھے۔(بخاری کتاب فضائل القرآن باب فضل المعوذتين) الغرض صحاح ستہ کی سب کتب میں معوذتین کے قرآن کریم کا حصہ ہونے کے بارہ میں احادیث ملتی ہیں۔یہی قرین قیاس ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ا نہیں قرآنی وحی ہی سمجھتے تھے اور محض ان معنوں میں دعا قرار دیتے تھے جو معانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان الفاظ میں بیان فرمارہے ہیں۔سورۃ فاتحہ میں تین دعائیں سکھلائی گئی ہیں۔(۱) ایک یہ دعا کہ خدا تعالیٰ اس جماعت میں داخل رکھے جو صحابہ کی جماعت ہے اور پھر اس کے بعد اس جماعت میں داخل رکھے جو مسیح موعود کی جماعت ہے جن کی نسبت قرآن شریف فرماتا ہے وَآخَرِينُ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ ( الجمعة : 4) غرض اسلام میں یہی دو جماعتیں منعم علیہم کی جماعتیں ہیں اور انہی کی طرف اشارہ ہے صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں کیونکہ تمام قرآن پڑھ کر دیکھو جماعتیں دوہی ہیں۔ایک صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت۔دوسری و آخَرِینَ مِنْهُمْ کی جماعت جو صحابہ کے رنگ میں ہے اور وہ مسیح موعود کی جماعت ہے۔پس جب تم نماز میں یا خارج نماز کے یہ دعا پڑھو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو دل میں یہی ملحوظ رکھو کہ میں صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت کی راہ طلب کرتا ہوں۔یہ تو سورۃ فاتحہ کی پہلی دعا ہے۔(۲) دوسری دعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ ہے جس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح موعود کو دکھ دیں گے اور اس دعا کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورۃ تبتُ يَدَا أَبِي لَهَبٍ ہے۔(۳) تیسری دعاوَلَا الضَّالِّينَ ہے اور اس کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورۃ اخلاص ہے یعنی قُلْ هُوَ