اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 268
الذكر المحفوظ 268 بعد، جبکہ اس وقت پیش نظر حکمتیں اور مکمل حالات و واقعات ہمارے علم میں نہیں اس لیے اعتراض کرنا فضول ہے۔پس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاست کے نگران اعلیٰ ہونے کی حیثیت سے بطور تعزیر تورات کے اس حکم کو لاگو کیا مگر اپنے اسوہ سے یہ بھی بتلا دیا کہ یہ حکم مل بھی سکتا ہے جبکہ اسلامی حدود کے بارہ میں آپ کا طرز عمل اس امر کو واضح کرتا ہے کہ مجرم ثابت ہونے کے بعد اسلامی حدود میں کسی قسم کی نرمی نہیں کی جاسکتی۔خلفاء راشدین نے بھی اس حکم کو اصلاح معاشرہ کے لیے لاگو رکھا۔چنانچہ حضرت علی بھی رحم کو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سمجھتے تھے نہ کہ وحی الہی۔چنانچہ روایت میں ہے کہ ایک دفعہ ایک زنا کے مقدمہ میں ایک عورت کو کوڑے بھی لگوائے اور رجم بھی کیا اور فر مایا کہ: جلدتها بكتاب الله و رجمتها بسنة رسول الله ﷺ (بخارى كتاب الحدود باب رجم المحصن) یعنی میں نے اس عورت کو کتاب اللہ کی تعلیم کے مطابق کوڑے لگوائے ہیں اور رجم رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت کی اتباع میں کیا ہے۔الغرض رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت کی اتباع میں، نیز معاشرہ کی اصلاح کے لیے وقت کی ضروریات اور حالات کے مطابق خلفاء راشدین نے بھی رجم کی سز ا بطور تعزیر لا گورکھی جو قابل اعتراض نہیں ہے۔حضرت عائشہ کی طرف منسوب روایت کے حوالہ سے اُٹھائے ہوئے اعتراض کے آخر میں ابن وراق کہتا ہے کہ اس روایت کے مطابق 100 سے زیادہ آیات گم شدہ ہیں: اس کے جواب میں ہم روایت کے الفاظ درج کر دیتے ہیں: عن عائشة قالت لقد نزلت آية الرجم و رضاعة الكبير عشرا و لقد كان في صحيفة تحت سريرى فلما مات رسول الله صلى الله عليه و سلم و تشاغلنا بموته دخل داجن فاكلها (سنن ابن ماجه كتاب النكاح باب رضاع الكبير) یعنی حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رجم کی آیت اور بڑے شخص کی رضاعت کے بارہ میں آیت ایک صحیفہ میں میرے بستر کے نیچے پڑی تھی۔جب رسول کریم کی وفات ہوئی تو ہمیں آپ کی تجہیز و تکفین میں مصروفیت کے باعث خیال نہ رہا اور پالتو بکری آئی اور وہ صحیفہ کھا گئی۔پس اگر اس کے علاوہ حضرت عائشہ سے منسوب کسی روایت میں جس میں رجم کا ذکر کرتی ہیں 100 گمشدہ آیات کا بھی ذکر ہو تو وہ بیان کی جائے۔جب تک وہ روایت نہیں ملتی ہم لعنۃ اللہ علی الکاذبین ہی کاورد کر سکتے ہیں۔