اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 269 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 269

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 269 اختلاف مصاحف نزول قرآن کے دور میں عرب میں نہ تو لکھنے کا عام رواج تھا اور نہ ہی صحابہ عام طور پر آداب تحریر سے واقف تھے۔علاوہ ازیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ پر یہ ذمہ داری عائد بھی نہیں کر رکھی تھی کہ قرآن کریم لازماً تحریر کیا کریں البتہ کسی کو قرآن کریم تحریر کرنے سے روکا بھی نہیں تھا بلکہ آپ کے فرمودات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس بات کی حوصلہ افزائی فرماتے کہ مسلمانوں کے پاس قرآن کریم کی تحریرات کثرت سے ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصائح پر اطاعت کے اعلیٰ نمونے دکھاتے ہوئے صحابہ قرآن کریم کا کچھ نہ کچھ حصہ تحریر کر کے اپنے پاس رکھتے تھے۔مگر عام طور پر صحابہ با قاعدہ مکمل قرآن مجید تحریر نہیں کیا کرتے تھے۔بلکہ کسی نے کچھ حصہ لکھا ہوتا تھا اور کسی نے کچھ حصہ اور جس قدر لکھتے بھی تو ذاتی ضرورت کے مطابق اور ذاتی استعمال کی غرض سے لکھتے۔چنانچہ بعض صحابہ نے وہ مشہور سورتیں جو ہر چھوٹے بڑے مسلمان کو حفظ تھیں، اپنے مصاحف میں درج نہ کیں۔پھر صحابہ اپنی یادداشت کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان فرمودہ کوئی تشریحی کلمہ یا جملہ بھی حاشیہ کے طور پر قرآن کریم کے متن کے ساتھ ہی لکھ لیتے اور یہ علم عام ہوتا تھا کہ یہ حصہ قرآن کریم کے متن کا حصہ نہیں ہے۔کیونکہ کثرت سے لوگوں کو قرآن کریم حفظ تھا اور قرآن کریم کی تعلیم عام تھی۔چنانچہ حضرت عائشہ کے ایک غلام ابی یونس کا ذکر ملتا ہے آپ حضرت عائشہ کے لیے قرآن کریم کی آیات تحریر کیا کرتے تھے۔آپ نے حضرت عائشہؓ کے کہنے پر حافِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَ الصَّلوةِ الوُسُطى (البقرة: 239) کے ساتھ بطور تفسیر کے یہ جملہ درج کیا تھا و صلوة العصر “ ( ترمذی ابواب تفسير القرآن عن النبي ﷺ باب و من سورة البقرة ) اس روایت سے واضح ہے کہ و صلوۃ العصر “ کے الفاظ تشریحی ہیں۔چنانچہ تمام حفاظ کا سکوت اس پر گواہ ہے۔پھر عام طور پر صحابہ کو بھی یہ علم تھا کہ یہ الفاظ متن قرآن کا حصہ نہیں بلکہ تشریح کے لیے بطور حاشیہ درج کیے گئے ہیں۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود اور ایک اور صحابی کی حدیث میں یہ ذکر ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بیان فرمایا کہ صلوة الوسطی سے مراد صلوۃ العصر ہے۔گویا واضح کر رہے ہیں کہ یہ آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیان فرمودہ ایک تفسیر ہے نہ کہ قرآنی الفاظ۔(ترمذی ابواب تفسير القرآن عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم باب و من سورة البقرة ) امام ترمذی کا دونوں احادیث کو باب تفسیر میں لانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ علما کو علم تھا کہ آیت کون سی ہے اور تشریح کون سی۔پھر صحابہ اس بات کا بھی خیال رکھتے تھے کہ ان کے مصاحف انہی کے پاس رہیں تاکہ ناواقف شخص کو ان سے ٹھوکر نہ لگے یا ان میں درج تفسیری نکات کو دوسرا شخص متن قرآن نہ سمجھ بیٹھے۔چنانچہ جب حضرت عائشہ سے ایک صحابی