اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 262 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 262

الذكر المحفوظ 262 میں اپنے ہاتھ سے رجم کی آیت لکھ دیتا۔گویا رجم کی آیت کا قرآن میں داخل کرنا ایک قسم کا اضافہ ہے جو آپ کے نزدیک بھی اور صحابہ کے نزدیک بھی ناپسندیدہ ہے۔ان روایات میں واضح طور پر حضرت عمر یہ حقیقت بیان فرمارہے ہیں کہ آپ کے نزدیک بھی اور صحابہ میں بھی یہ ایک جانی مانی حقیقت تھی کہ آیت رجم قرآن کا حصہ نہیں ہے اور اس کا درج کرنا دراصل قرآن کریم میں اضافہ کرنا ہے۔پس قرآن کا حصہ نہ ہونا مگر پھر بھی معاشرہ میں اس سزا کا لاگو کیا جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ امر ریاستی اور انتظامی معاملات میں سے ایک تھا اور اسلامی حدود سے اس کا تعلق نہیں تھا۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ حضرت عمر نے یہ کیوں فرمایا کہ میں خود اپنے ہاتھ سے لکھ دیتا تو اس سے صرف یہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت عمر کے نزدیک رجم کے حکم کی اہمیت اتنی زیادہ ہے۔ورنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دل قرآن کریم کے بارہ میں کس قدر حساس تھا اس کا نمونہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح پڑھنے کے انداز میں ادنیٰ سے اختلاف پر آپ بھرے ہوئے شیر کی طرح کھڑے ہو جاتے ہیں اور قرآن کریم کی حفاظت کے میدان میں کسی کی بھی پروا نہیں کرتے۔پس کیسے ممکن ہے کہ آپ قرآن کریم میں کوئی اضافہ کرنا چاہتے ہوں؟ چنانچہ دوسری روایات میں یہ ذکر بھی ملتا ہے کہ آپ فرماتے کہ میں اس حکم کو قرآن کریم کے حاشیہ پرلکھ لیتا۔مثلاً روایت ہے: ولولا ان يقول القائلون زاد عمر في كتاب الله ما ليس منه لكتبته في ناحية من المصحف (مسند احمد بن حنبل مسند العشرة المبشرين بالجنه مسند عمر بن الخطاب) اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ کہنے والے کہیں گے کہ عمر نے کتاب اللہ میں ایسا اضافہ کر دیا ہے جو کہ دراصل اس کے متن کا حصہ نہیں ہے تو میں یہ حکم کتاب اللہ کے حاشیہ پر لکھ دیتا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس حکم کو قرآن کریم کے متن کا حصہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ فرمارہے ہیں کہ اگر میں لکھتا بھی تو بطور حاشیہ لکھتا تا کہ یہ بھی قرآن کریم کے ساتھ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے لیکن اس لیے نہیں لکھا کہ ایک طرف رسول کریم کی واضح ممانعت ہے کہ قرآن کریم کے متن کے ساتھ کوئی دوسری عبارت درج نہ کی جائے اس لیے مجھے یہ امر کر وہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے واضح فرمان کو ٹالتے ہوئے قرآن کریم کے متن کے ساتھ کچھ لکھوں۔یہ ذکر بھی گزر چکا ہے کہ صحابہ نے اپنے نسخوں میں جو تشریحی تحریرات درج کی ہوئی تھیں، حضرت عمرؓ نے رسول کریم کے ایک ارشاد اور سنت سے رہنمائی لیتے ہوئے ان تمام تشریحی تحریرات اور حواشی کو تلف کرادیا تھا۔اگر آپ رجم کا حکم حاشیہ میں بھی درج کرتے تو یہ اعتراض بھی ہوتا کہ خود تو حاشیہ میں ایسی تحریرات لکھ رہے ہیں اور دیگر حابہ سے کہتے ہیں کہ ایسی تحریرات جن میں قرآنی آیات کے ساتھ تشریحی حواشی درج ہیں تلف کر دی جائیں۔