اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 261
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 261 تمام وعدے پورے کرنے والا اس معاملہ وعدہ خلافی کا مرتکب ہو جاتا ؟ اسے تو علم تھا کہ میرے کلام کے اس حصہ کا یہ حال ہونا ہے پھر نازل ہی کیوں کیا اور اگر کر ہی دیا تھا اور ساتھ یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ میں ہی حفاظت کرنے والا ہوں تو پھر اس وقت یہ کون سی بکری تھی جو خدا تعالیٰ کے ارادہ کی راہ میں روک بن گئی ! ہزاروں عیار اور خون کے پیاسے دشمن تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے اور قرآن کریم کو نقصان پہنچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں لیکن ناکام رہ جائیں اور ایک بکری کام دکھا جائے۔یہ حسرتیں اور سوچیں تو ابن وراق اور اسی کی قماش کے لوگوں کی ہیں کہ بکریاں خدا کی تقدیر بدلنے لگیں۔پس یہ روایات اور ان پر تحقیق کی بنا رکھنا مخالفین کا محض تمسخر اور استہزاء ہے اور اس سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔اس کے بعد ابن وراق کہتا ہے کہ ابتدائی خلفاء نے زناکاروں کے لیے اس قسم کی سزائیں تجویز کی تھیں، باوجود اس کے آج جیسا کہ ہم جانتے ہیں قرآن صرف سو کوڑوں کی سزا تجویز کرتا ہے۔“ صلى الله رسول کریم ﷺ اور خلفاء راشدین کا رجم کی سزا تجویز کرنا یہ بات درست ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور خلفاء نے رجم کی سزائیں دی تھیں لیکن اس سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رجم قرآنی وحی اور اسلامی حدود میں داخل ہے بلکہ ان روایات سے واضح ہوتا ہے کہ رجم کا حکم اصلاح معاشرہ کی خاطر جاری کیا گیا اور ایک انتظامی حکم تھا جس کا اسلامی حدود سے کوئی تعلق نہیں تھا۔یہ صرف ایک تعزیر یا ایک سزا تھی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم و رجم ابوبکر و رجمت ولولا انی اكره ان ازيد فى كتاب الله لكتبته في المصحف (ترمزی كتاب الحدود باب ما جاء في تحقيق الرجم) رسول کریم نے رجم کی سزادی حضرت ابو بکر نے رجم کی سزادی اور میں نے بھی رجم کی سزادی۔اور اگر میرے لیے کتاب اللہ میں اضافہ کرنا کراہت آمیز نہ ہوتا تو میں اسے مصحف میں درج کر دیتا۔اب اس روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واضح اقرار موجود ہے کہ آپ کے نزدیک آیت رجم کا قرآن کریم میں درج کیا جانا کتاب اللہ میں اضافہ کرنے کے مترادف ہے اور مکروہ ہے پس کیسے ممکن ہے کہ آپ ایسا کرتے۔حضرت عمررؓ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: لولا ان يقول الناس زاد عمر في كتاب الله لكتبت آية الرجم بيدى (بخاری کتاب الاحكام باب الشهاده تكون عند الحاكم في ولايته القضاء۔۔۔) یعنی اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر نے کتاب اللہ میں اضافہ کیا ہے تو