اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 260
الذكر المحفوظ 260 محبت کی ترجمانی کر رہے ہیں کہ: كنت السواد لناظري فعـمــى عــلــى الــنــاظــر کہ اے محمد یہ تو ہی تو میری آنکھوں کا نور تھا تیرے جانے سے میں تو اندھا ہوگیا ضر من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاض اب تیرے بعد جو مرضی جیسے یا مرے مجھے تو تیرے ہی جانے کا خطرہ تھا (بخاری کتاب المغازی باب مرض النبي و وفاته) ایک طرف محبت اور فدائیت کے یہ بے نظیر نمونے اور دوسری جانب یہ حال ہے کہ نعش مبارک پڑی ہے۔اردگرد کوئی حفاظت کرنے والا بھی نہیں اور پالتو جانور آزادانہ جسدِ اطہر کے آس پاس گھوم رہے ہیں۔کیا ایسا سوچا بھی جاسکتا ہے؟ گزشتہ صفحات میں بیان کی گئی ان تفصیلات کو ذرا ذہن میں دہرائیں کہ کلام الہی کی حفاظت کا وعدہ اُس خدائے قادر نے کس طرح پورا کیا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی توفیق سے حفاظت قرآن کے کس قدر عظیم الشان انتظامات فرمائے تھے کہ کوئی کمی بیشی کبھی راہ نہیں پاسکی۔پھر آپ کی وفات کے بعد صحابہ کا کلام الہی کی حفاظت کے بارہ میں اختیار کیا گیا طرز عمل بھی گواہ ہے کہ حفاظت کا انتظام بے نظیر تھا۔کیا صحابہ کے اس طرزِ عمل سے کوئی ایسا شائبہ بھی پیدا ہوسکتا ہے کہ جنہوں نے مخالفتوں کے طوفان میں اپنے بوڑھے والدین ، اپنے جواں سال بیٹوں ، اپنی جوان بیویوں، اپنے معصوم بچوں کی جانوں کو قربان کر کے الہی امانت کی حفاظت کا فرض ادا کیا اور دنیا کو اس عدیم النظیر درجۂ استناد کے ساتھ سپرد کیا کہ اور کسی کتاب کو یہ شاندار محافظت نصیب نہ ہوئی مگر یکا یک دنیا حیران رہ گئی کہ اس قدر بے نظیر نمونے دکھانے والی قوم کی تمام تر قربانیوں کو ایک بکری ضائع کرگئی؟ لاحول ولا قوة الا بالله العلى العظيم ! ایس خیال است و محال است و جنوں !!! و پھر اس حوالہ سے بھی تو دیکھیں کہ کیا کلام الہی اس لیے اترتا ہے کہ بکری کھا جائے ؟ ایک کلام جس کو تمام عالم کی ابدی راہنمائی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس سے انسانیت کی نجات وابستہ کر دی گئی ہے، وہ بکری کے پیٹ میں چلا جائے؟ کیا وہ قادر و توانا خدا اپنے کلام کو ایک بکری سے نہیں بچا سکا؟ کیا اب بھی وہی خدا نہیں تھا جس نے ایک امی بے کس کی حفاظت کا وعدہ کیا اور پھر ا سے ہزاروں مشکلات اور مصائب کی آندھیوں سے بچایا اور اس کے قتل کی بہت سی کوششوں کو نا کام بنایا ؟ جس نے کمزوری اور کسمپرسی کی حالت میں عظیم الشان فتوحات کا وعدہ کیا اور پھر ہر وعدہ پورا کیا اور اس شان کی فتوحات سے نوازا کہ تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔پس اسی حفاظت کرنے والے اور صادق الوعد خدا نے ہی تو قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا پھر کیسے ممکن تھا کہ