اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 253
قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 253 پچھلے دنوں میں نے کسی اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک انگریز نے محض اس وجہ سے خود کشی کر لی کہ بار با روہی دن رات غذا مقرر ہے اور میں اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 457) اعادہ کی ایک حکمت کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآنی ترتیب کا یہ اصول ہے کہ وہ اپنے پہلے مضمون کو آخر میں پھر دُہرا دیتا ہے اور یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ یہاں گزشتہ بحث ختم ہوتی ہے۔اور آئندہ نیا مضمون شروع ہوتا ہے۔( تفسیر کبیر جلد دوم تفسیر آیت البقرة:لن تمسنا النار الا اياما معدودات) ابن وراق قرآن کریم میں اعادہ و تکرار پر اعتراض کرتے ہوئے سورۃ الرحمان میں دہرائی جانے والی آیت فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ( آیت:14) کو خصوصیت سے پیش کرتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سورۃ رحمن میں اس تکرار کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس قسم کا التزام اللہ تعالیٰ کے کلام کا ایک ممتاز نشان ہے۔انسان کی فطرت میں یہ امر واقع ہوا ہے کہ موزوں کلام اسے جلد یاد ہو جاتا ہے اس لیے فرمایا وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ للذكر القمر : 23) یعنی بیشک ہم نے یاد کرنے کے لیے قرآن شریف کو آسان کر دیا ہے۔۔۔۔فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بنِ بار بار توجہ دلانے کے واسطے ہے۔اسی تکرار پر نہ جاؤ قرآن شریف میں اور بھی تکرار ہے۔میں خود بھی تکرار کو اسی وجہ سے پسند کرتا ہوں۔میری تحریروں کو اگر کوئی دیکھتا ہے تو وہ اس تکرار کو بکثرت پائے گا۔حقیقت سے بے خبر انسان اس کو منافی بلاغت سمجھ لے گا اور کہے گا کہ یہ بھول کر لکھا ہے حالانکہ یہ بات نہیں ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاید پڑھنے والا پہلے جو کچھ لکھا ہے اسے بھول گیا ہو اس لیے بار بار یاد دلاتا ہوں تا کہ کسی مقام پر تو اس کی آنکھ کھلے۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْنِيَّاتِ۔علاوہ بریں تکرار پر اعتراض ہی بے فائدہ ہے اس لیے کہ یہ بھی تو انسانی فطرت میں ہے کہ جب تک بار بار ایک بات کو دہرائے نہیں وہ یاد نہیں ہوتی۔سُبحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى اور سُبْحَانَ رَبِّيَ العظيم بار بار کیوں کہلوایا ایک بار ہی کافی تھا؟ نہیں۔اس میں یہی سر ہے کہ کثرت تکرار اپنا ایک اثر ڈالتی ہے اور غافل سے غافل قوتوں میں بھی ایک بیداری پیدا کر دیتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وَاذْكُرُوا الله كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (الانفال : 46 ) یعنی اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو تا کہ تم فلاح پا جاؤ۔جس طرح یہ ذہنی تعلق ہوتا ہے اور کثرت