اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 246
الذكر المحفوظ 246 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اس نظام ترتیب کے بارہ میں بیان کرتے ہیں: قرآن شریف جو خدا کا قول ہے اس میں اسی قسم کا اصول ترتیب مد نظر رکھا گیا ہے جو خدا کے فعل یعنی صحیفہ قدرت میں پایا جاتا ہے۔یعنی جس طرح اس جسمانی عالم میں دنیا کی مادی زندگی اور ترقی و بہبودی کے سامان مہیا کیے جا کر اس میں ترتیب رکھی گئی ہے اسی طرح کی خدا کے قول یعنی قرآن شریف میں ایک ترتیب ہے جو علم النفس کے ان ابدی اصول کے ماتحت قائم کی گئی ہے جو دنیا کی اخلاقی اور تمدنی اور روحانی زندگی اور اصلاح و ترقی کے لیے بہترین اثر رکھتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ جس طرح بعض لوگوں کو اس عالم جسمانی میں کوئی ترتیب نظر نہیں آتی اس طرح روحانی بینائی سے محروم لوگوں کو قرآنی ترتیب بھی نظر نہیں آتی۔مگر جو لوگ گہرے مطالعہ کے عادی ہیں اور روحانی کلام کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے اپنے اندر ضروری بینائی اور تقدس وطہارت رکھتے ہیں وہ اس ترتیب کو علی قدر مراتب سمجھتے اور اس کے اثر کو اپنے نفوس میں محسوس کرتے ہیں۔( سيرة خاتم النبین حصہ دوم زیر عنوان ترتیب قرآن صفحه 535) ترتیب قرآن عالم جسمانی اور عالم روحانی کے مطابق ہے قرآن کریم کی ترتیب عالم جسمانی کی ترتیب کے مشابہ بھی ہے۔جس طرح اس عالم رنگ و بُو میں ایک عجیب حسن اور توازن پایا جاتا ہے جو دیدہ بینا کی طراوت کا سامان مہیا کرتا ہے اسی طرح قرآن کریم میں بھی غیر معمولی حسن ہے جو اس جہان پر غور کرنے والوں پر ہر زمانہ میں گھلتا رہا ہے۔اس کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ عالم جسمانی اسی خالق کا فعل ہے قرآن کریم جس کا قول ہے۔پس قول اور فعل میں مطابقت ہونی چاہیے اور ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔اس جگہ سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفتیں بیان فرمائیں۔یعنی رب العالمین۔رحمان۔رحیم۔مالک یوم الدین اور ان ہر چہار صفتوں میں سے رب العالمین کو سب سے مقدم رکھا اور پھر بعد اس کے صفت رحمان کو ذکر کیا۔پھر صفت رحیم کو بیان فرمایا۔پھر سب کے اخیر صفت مالک یوم الدین کو لائے۔پس سمجھنا چاہیے کہ یہ ترتیب خدائے تعالیٰ نے کیوں اختیار کی ؟ اس میں نکتہ یہ ہے کہ ان صفات اربعہ کی ترتیب طبیعی یہی ہے اور اپنی واقعی صورت میں اسی ترتیب سے یہ صفتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔اور کمال بلاغت اسی کا نام ہے کہ جو صحیفہ فطرت میں ترتیب ہو۔وہی ترتیب صحیفہ الہام