اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 242
الذكر المحفوظ 242 بیان کیا ہے یا مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔قرآن کریم کے الہی کلام ہونے کی وجہ سے اس کا انداز اور اسلوب بیان عام کتب جیسا نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا مبلغ علم عام مصنفین کی طرح محدود تو نہیں ہے۔اس لیے کتاب الہی میں جب کوئی بھی مضمون بیان ہو تو وہ انسانی علم کی طرح محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ غیر محدود سر چشمہ علم سے پھوٹنے کی وجہ سے گہرائی اور وسعت میں انسانی علم سے وسیع تر ، جامع اور کامل ہونا چاہیے۔پس بنی نوع انسانی کی راہنمائی کے لیے نازل ہونے والی خدا تعالیٰ کی کتاب میں اگر تمام ضروری مضامین کو الگ الگ بیان کیا جائے تو تمام مضامین پر مشتمل یہ کتاب بھی غیر محدودضخامت کی حامل ہونی چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادَ أَ لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبّى وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا- (الكهف: 110) ترجمہ: کہہ دے کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات کے لیے روشنائی بن جائیں تو سمندر ضرورختم ہو جائیں گے پیشتر اس کے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں خواہ ہم بطور مدد اس جیسے اور (سمندر ) لے آئیں۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اور اس میں ستر یہ ہے کہ جو چیز غیر محدود قدرت سے وجود پذیر ہوئی ہے اُس میں غیر محدود عجائبات اور خواص کا پیدا ہونا ایک لازمی اور ضروری امر ہے اور یہ آیت کہ قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَاداً لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا اپنے ایک معنے کی رُو سے اسی امر کی مؤید ہے۔کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 60) پس جب خدا تعالیٰ کا کلام ہونے کی وجہ سے قرآن کریم کے معارف غیر محدود ہیں تو اگر یہ معارف عام اسلوب اور دستور تحریر پر بیان کیے جاتے تو ہزار ہا جلدوں کی کتاب درکار تھی۔یہ بات تو ظاہر ہے کہ محدود قومی رکھنے والے بنی نوع کے لیے ایسی غیر محدود کتاب تو فائدہ مند نہیں ہو سکتی تھی۔کیونکہ ہزار ہا اجزا کی کتاب کو سنبھالنا کسی ایک انسان کے بس کی بات نہیں تھی کجا یہ کہ اسے پڑھا سمجھا اور حفظ کیا جاتا۔پس خدا تعالیٰ کی کتاب کی تقسیم و ترتیب اور اسلوب بیان عام انسانی اسلوب بیان سے لازماً مختلف اور وسیع تر ہونا چاہیے۔چنانچہ غیر محدود علوم کے بیان کے لیے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایسا انداز اپنایا جو کہ ایک عام انسان کی علمی ، جسمانی اور روحانی استعدادوں کے مطابق بھی ہے اور غیر محدود علوم کو سمیٹے ہوئے بھی ہے تا کہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے والا نزول قرآن سے لے