اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 235 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 235

قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب 235 اور کیا کہیں کہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ [آل عمران:62] براہین احمدیہ جلد چہارم حاشیه گیاره روحانی خزائن جلد اول صفحہ 226,227 ایڈیشن اول صفحہ 206 ) ہر یک باخبر آدمی پر ظاہر ہے کہ مخالفین باوجو دسخت حرص اور شدت عناد اور پرلے درجہ کی مخالفت اور عداوت کے مقابلہ اور معارضہ سے قدیم سے عاجز رہے ہیں۔اور اب بھی عاجز ہیں اور کسی کو دم مارے کی جگہ نہیں۔اور باوجود اس بات کے کہ اس مقابلہ سے ان کا عاجز رہنا ان کو ذلیل بناتا ہے۔جہنمی ٹھہراتا ہے۔کافر اور بے ایمان کا ان کو لقب دیتا ہے۔بے حیا اور بے شرم۔ان کا نام رکھتا ہے۔مگر مردہ کی طرح ان کے مونہہ سے کوئی آواز نہیں نکلتی۔پس لا جواب رہنے کی ساری ذلتوں کو قبول کرنا اور تمام ذلیل ناموں کو اپنے لئے روا رکھنا اور تمام قسم کی بے حیائی اور بے شرمی کی خس و خاشاک کو اپنے سر پر اٹھا لینا اس بات پر نہایت روشن دلیل ہے کہ ان ذلیل چمگادڑوں کی اس آفتاب حقیقت کے آگے کچھ پیش نہیں جاتی۔پس جبکہ اس آفتاب صداقت کی اس قدر تیز شعاعیں چاروں طرف سے چھوٹ رہی ہیں کہ ان کے سامنے ہمارے دشمن خفاش سیرت اندھے ہورہے ہیں۔تو اس صورت میں یہ بالکل مکابرہ اور سخت جہالت ہے کہ گلاب کے پھول کی خوبیوں کو کہ جو بہ نسبت قرآنی خوبیوں کے ضعیف اور کمزور اور قلیل الثبوت ہیں۔اس مرتبہ بے نظیری پر سمجھا جائے کہ انسانی قوتیں ان کی مثل بنانے سے عاجز ہیں۔مگر ان اعلیٰ درجہ کی خوبیوں کو کہ جو کئی درجہ گلاب کے پھول کی ظاہری و باطنی خوبیوں سے افضل و بہتر اور قوی الثبوت ہیں۔ایسا خیال کیا جائے کہ گویا انسان ان کی نظیر بنانے پر قادر ہے۔براہین احمدیہ جلد چہارم حاشیہ نمبر گیارہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 1412 ایڈیشن اول صفحہ 346 ) پس اگر ا بن و راق کو اپنی جہالت کی وجہ سے یہ حسن نظر نہیں آتا اور نہ ہی عقل سے کام لیتا ہے کہ ایک عرب فصیح البیان، قادر الکلام شخص کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ ترتیب لگا تا تھا اس لیے لازماً کلام کسی اسلوب پر ہی مرتب کیا گیا ہوگا، تو اس کے لیے ایک اور طریق ہے کہ قرآن کریم کے اس چیلنج کو قبول کرے اور مقابلہ کے لیے میدان میں اُترے۔سوال یہ ہے کہ جہاں تک قرآن کریم کے اسلوب بیان کا تعلق ہے تو اہل علم بر ما گواہی دیتے ہیں کہ قرآن کریم کا اسلوب بیان اپنے حسن و جمال میں عالی شان، بے مثل اور اہل کمال کے اسلوب سے اعلیٰ وارفع ہے۔مگر وہ اسلوب ہے کیا ؟ عام شخص کو، جو عربی زبان سے واقف نہیں یا قرآن کریم کا گہرا مطالعہ نہیں رکھتا، کس طرح سمجھایا جائے؟