اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 234 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 234

الذكر المحفوظ 234 رہ گئی ہو۔یونہی دیوانوں اور سودائیوں کی طرح اوہام باطلہ پیش کرنا جن کی کچھ بھی اصلیت نہیں۔اس بات پر پختہ دلیل ہے کہ ایسے لوگوں کو راست بازوں کی طرح حق کا تلاش کرنا منظور ہی نہیں۔بلکہ نفس امارہ کو خوش رکھنے کے لیے اس فکر میں پڑے ہوئے ہیں کہ کسی طرح خدا کے پاک احکام سے بلکہ خدا ہی سے آزادگی حاصل کر لیں۔اسی آزادگی کے حصول کی غرض سے خدا کی سچی کتاب سے جس کی حقانیت اظہر من الشمس ہے ایسے منحرف ہورہے ہیں کہ نہ متکلم بن کر شائستہ طریق پر کلام کرتے ہیں اور نہ سامع ہونے کی حالت میں کسی دوسرے کی بات سنتے ہیں۔بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ کب کسی نے کوئی صداقت دینی قرآن کے مقابلہ پر پیش کی جس کا قرآن نے کچھ جواب نہ دیا اور خالی ہاتھ بھیج دیا جس حالت میں تیرہ سو برس سے قرآن شریف باواز بلند دعوی کر رہا ہے کہ تمام دینی صداقتیں اس میں بھری پڑی ہیں۔تو پھر یہ کیسا خبث طینت ہے کہ امتحان کے بغیر ایسی عالیشان کتاب کو ناقص خیال کیا جائے اور یہ کس قسم کا مکابرہ ہے کہ نہ قرآن شریف کے بیان کو قبول کریں اور نہ اس کے دعوی کو توڑ کر دکھلائیں۔سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے لبوں پر تو ضرور کبھی کبھی خدا کا ذکر آ جاتا ہے۔مگر ان کے دل دنیا کی گندگی سے بھرے ہوئے ہیں۔اگر کوئی دینی بحث شروع بھی کریں تو اس کو مکمل طور پر ختم کرتا نہیں چاہتے۔بلکہ نا تمام گفتگو کا ہی جلدی سے گلا گھوٹ دیتے ہیں۔تا ایسا نہ ہو کہ کوئی صداقت ظاہر ہو جائے اور پھر بے شرمی یہ کہ گھر میں بیٹھ کر اس کامل کتاب کو ناقص بیان کرتے ہیں۔جس نے بوضاحت تمام فرما دیا۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي الجزو نمبر ۶ [المائدہ: 4] یعنی آج میں نے اس کتاب کے نازل کرنے سے علم دین کو مرتبہ کمال تک پہنچا دیا اور اپنی تمام نعمتیں ایمانداری پر پوری کر دیں۔اے حضرات! کیا تمہیں کچھ بھی خدا کا خوف نہیں؟ کیا تم ہمیشہ اسی طرح جیتے رہو گے؟ کیا ایک دن خدا کے حضور میں اس جھوٹے منہ پر لعنتیں نہیں پڑیں گی ؟ اگر آپ لوگ کوئی بھاری صداقت لیے بیٹھے ہیں جس کی نسبت تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم نے کمال جانفشانی اور عرق ریزی اور موشگانی سے اس کو پیدا کیا ہے اور جو تمہارے گمان باطل میں قرآن شریف اس صداقت کے بیان کرنے سے قاصر ہے تو تمہیں قسم ہے کہ سب کا روبار چھوڑ کر وہ صداقت ہمارے رو برو پیش کرو۔تا ہم تم کو قرآن شریف میں سے نکال کر دکھلا دیں۔مگر پھر مسلمان ہونے پر مستعد رہو اور اگر اب بھی آپ بدگمانی اور بک بک کرنا نہ چھوڑیں اور مناظرہ کا سیدھا راستہ اختیار نہ کریں۔تو بجز اس کے