اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 233
233 قرآن کریم میں تحریف کے الزامات کے جواب زیادہ بدیہی اور کھلا کھلے معجزہ اور کیا ہوگا۔کہ عقلی طور پر بھی اس پاک کلام کا بشری طاقتوں سے بلند تر ہونا ثابت ہوتا ہے اور زمانہ دراز کا تجربہ بھی اس کے مرتبہ اعجاز پر گواہی دیتا ہے اور اگر کسی کو یہ دونوں طور کی گواہی کہ جو عقل اور تجربہ زمانہ دراز کے رو سے به پایہ ثبوت پہنچ چکی ہے نا منظور ہو اور اپنے علم اور ہنر پر نازاں ہو۔یا دنیا میں کسی ایسے بشر کی انشا پردازی کا قائل ہو۔کہ جو قرآن شریف کی طرح کوئی کلام بنا سکتا ہے۔تو ہم جیسا کہ وعدہ کر چکے ہیں۔کچھ بطور نمونہ حقائق دقائق سورۃ فاتحہ کے لکھتے ہیں۔اس کو چاہیے کہ بمقابلہ ان ظاہری و باطنى سورۃ فاتحہ کی خوبیوں کے کوئی اپنا کلام پیش کرے۔۔۔۔۔اور اگر کوئی اس امر کو تسلیم نہ کرے۔تو یہ بار ثبوت اسی کی گردن پر ہے کہ وہ آپ یا کسی اپنے مددگار سے عبارت قرآن کی مثل بنوا کر پیش کرے۔مثلاً سورۃ فاتحہ کے مضمون کو لیکر کوئی دوسری فصیح عبارت بنا کر دکھلا دے جو کمال بلاغت اور فصاحت میں اس کے برابر ہو سکے۔اور جب تک ایسا نہ کرے۔تب تک وہ ثبوت کہ جو مخالفین کے تیرہ سو برس خاموش اور لا جواب رہنے سے اہل حق کے ہاتھ میں ہے۔کسی طور سے ضعیف الاعتبار نہیں ہوسکتا۔بلکہ مخالفین کے سینکڑوں برسوں کی خاموشی اور لاجواب رہنے نے اس کو وہ کامل مرتبہ ثبوت کا بخشا ہے کہ جو گلاب کے پھول وغیرہ کو وہ ثبوت بے نظیری کا حاصل نہیں۔کیونکہ دنیا کے حکیموں اور صنعت کاروں کو کسی دوسری چیز میں اس طور پر معارضہ کے لئے کبھی ترغیب نہیں دی گئی اور نہ اس کی مثل بنانے سے عاجز رہنے کی حالت میں کبھی ان کو یہ خوف دلایا گیا کہ وہ طرح طرح کی تباہی اور ہلاکت میں ڈالے جائیں گے۔براہین احمدیہ جلد چہارم حاشیہ نمبر گیارہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ 404-402 ایڈیشن اول صفحه 338 ) دوسرے نشان صدق یہ کہ ہر یک صداقت دینی کو وہ بیان کرتا ہے اور تمام وہ امور بتلاتا ہے کہ جو ہدایت کامل پانے کے لیے ضروری ہیں اور یہ اس لیے نشان صدق ٹھہرا کہ انسان کی طاقت سے یہ بات باہر ہے کہ اس کا علم ایسا وسیع و محیط ہو جس سے کوئی دینی صداقت وحقائق دقیقہ بار نہ رہیں۔غرض ان تمام آیات میں خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ قرآن شریف ساری صداقتوں کا جامع ہے اور یہی بزرگ دلیل اس کی حقانیت پر ہے اور اس دعوی پر صدہا برس بھی گزرر گئے۔پر آج تک کسی برہمو وغیرہ نے اس کے مقابلے پر دم بھی نہ مارا۔تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ بغیر پیش کرنے کسی ایسی جدید صداقت کے کہ جو قرآن شریف سے باہر