اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ

by Other Authors

Page 228 of 428

اَلذِّکْرُ الْمَحْفُوْظ — Page 228

الذكر المحفوظ 228 ضمائر کی تبدیلی اور ایک واقعہ سے ایک دوسرے واقعہ کی طرف توجہ پھیر نے کے انداز وغیرہ پر گفتگو کی جاتی ہے۔اس پر اعتراض کرنا یہ تو ایسی بات ہی ہوگی کہ انگریزی زبان کا سرسری ساعلم رکھنے والا شیکسپئر کا کوئی ادب پارہ سمجھ نہ پائے اور اعتراض کر دے کہ جانے کیا کیا لکھ دیا ہے۔پس بہتر یہی تھا کہ ابن وراق اہل زبان کی گواہی کو ہی تسلیم کرتا اور اپنی جہالت کو قرآن کریم پر اعتراض کی وجہ اور بنیاد نہ بناتا۔قرآن کریم تو اپنے اسلوب بیان کو ایک چیلنج کے طور پر پیش کرتا ہے کہ اس جیسا مرتب، با ربط اور فصیح و بلیغ کلام پیش کر کے تو دکھاؤ اور اُن لوگوں کو جو نہ چیلنج قبول کرتے ہیں اور نہ ہی قرآن کریم کا الہی کلام ہونا تسلیم کرتے ہیں جھوٹا اور شکست خوردہ قرار دیتا ہے۔مگر پھر بھی پندرہ سوسال کے اس عرصے میں کسی عربی دان کو اس میدان میں دم مارنے کی جرات نہیں ہوئی اور عاجز رہ کر خود اپنا جھوٹا اور شکست خوردہ ہونا تسلیم کر لیا۔آخری طریق فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارہ میں فرماتے ہیں: علاوہ دلائل متذکرہ بالا کے کئی ایک اور وجوہ بھی ہیں۔جن سے خدا کے کلام کا عدیم المثال ہونا اور بھی زیادہ اس پر واضح ہوتا ہے اور مثل اجلی بدیہات کے نظر آتا ہے۔جیسے منجملہ ان کے ایک وہ وجہ ہے جو ان نتائج متفاوتہ سے ماخوذ ہوتی ہے۔جن کا مختلف طور پر بحالت عمل صادر ہونا ضروری ہے۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ ہر ایک عاقل کی نظر میں یہ بات نہایت بدیہی ہے کہ جب چند متکلمین انشا پرداز اپنی اپنی علمی طاقت کے زور سے ایک ایسا مضمون لکھنا چاہیں کہ جو فضول اور کذب اور حشو اور لغو اور ہنرل اور ہر ایک مہمل بیانی اور ژولیدہ زبانی اور دوسرے تمام امور محل حکمت و بلاغت اور آفات منافی کمالیت و جامعیت سے بکلی منزہ اور پاک ہوا اور سراسرحق اور حکمت اور فصاحت اور بلاغت اور حقائق اور معارف سے بھرا ہوا ہو۔تو ایسے مضمون کے لکھنے میں وہی شخص سب سے اول درجہ پر رہے گا۔کہ جو علمی طاقتوں اور وسعت معلومات اور عام واقفیت اور ملکہ علوم دقیقہ میں سب سے اعلیٰ اور مشق اور ورزش املاء وانشاء میں سب سے زیادہ تر فرسودہ روزگار ہو اور ہرگز ممکن نہ ہوگا کہ جو شخص اس سے استعداد میں علم میں ، لیاقت میں، ملکہ میں، ذہن میں عقل میں کہیں فروتر اور منزل ہے۔وہ اپنی تحریر میں من حیث الکمالات اس سے برابر ہو جائے۔مثلاً ایک طبیب حاذق جو علم ابدان میں مہارت تامہ رکھتا ہے۔جس کو زمانہ دراز کی مشق کے باعث سے تشخیص امراض اور تحقیق